(۲۱۰۸۱) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی یَزِیدَ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ یَقُولُ : خِلاَلٌ مِنَ خِلاَلِ الْجَاہِلِیَّۃِ الطَّعْنُ فِی الأَنْسَابِ وَالنِّیَاحَۃُ وَنَسِیَ الثَّالِثَۃَ۔ قَالَ سُفْیَانُ یَقُولُونَ إِنَّہَا الاِسْتِسْقَائُ بِالأَنْوَائِ ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَلِیٍّ عَنْ سُفْیَانَ وَقَدْ مَضَی ذَلِکَ بِمَعْنَاہُ مَرْفُوعًا مِنْ حَدِیثِ أَبِی مَالِکٍ الأَشْعَرِیِّ وَأَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا۔ [صحیح۔ بخاری ۳۸۵۰]
(٢١٠٨١) عبیداللہ بن ابی یزید نے ابن عباس (رض) سے سنا، وہ فرما رہے تھے : جاہلیت کی عادات میں سے ہے، نسب میں طعن کرنا۔ نوحہ کرنا۔ تیسری چیز بھول گئے۔ سفیان کہتے ہیں : ستاروں کے ذریعہ بارش مانگنا۔