(۲۱۱۱۵) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَنْبَأَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ الْکَرَابِیسِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِی بَکْرٍ۔
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَۃَ وَأَبُو بَکْرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْفَارِسِیُّ قَدِمَا عَلَیْنَا بَیْہَقَ وَہُمَا صَحِیحٌ سَمَاعُہُمَا قَالاَ أَنْبَأَنَا أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَیُّوبَ أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِی بَکْرٍ الْمُقَدَّمِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو مَعْشَرٍ الْبَصْرِیُّ یَعْنِی الْبَرَائَ حَدَّثَنِی صَدَقَۃُ بْنُ طَیْسَلَۃَ أَخْبَرَنِی مَعْنُ بْنُ ثَعْلَبَۃَ الْمَازِنِیُّ حَدَّثَنِی الأَعْشَی الْمَازِنِیُّ قَالَ : أَتَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- فَأَنْشَدْتُہُ :
(۱)
یَا مَالِکَ النَّاس وَدَیَّانَ الْعَرَبْ
إِنِّی لَقِیتُ ذِرْبَۃً مِنَ الذِّرَبْ
(۲)
غَدَوْتُ أَبْغِیہَا الطَّعَامَ فِی رَجَبْ
وَفِی رِوَایَۃِ الْکَرَابِیسِیِّ
(۳)
خَرَجْتُ أَبْغِیہَا فَخَلَّفَتْنِی بِنِزَاعٍ وَحَرَبْ
أَخْلَفَتِ الْعَہْدَ وَلَطَّتْ بِالذَّنَبْ
وَہُنَّ شَرُّ غَالِبٍ لِمَنْ غَلَبْ
قَالَ فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یَتَمَثَّلُہَا وَیَقُولُ : وَہُنَّ شَرُّ غَالِبٍ لِمَنْ غَلَبْ ۔ [ضعیف]
(٢١١١٥) اعمش مازنی فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آکر اشعار پڑھے : شعر :
اے لوگو کے رب اور عرب کے فیصلہ کرنے والے !
میری ملاقات ایک زبان دراز آدمی سے ہوئی
میں تو گھبراہٹ اور پریشانی کی حالت میں رزق تلاش کررہا تھا۔
کراسی کی روایت : میں تو رزق کی تلاش میں نکلا، اس نے میرا پیچھا نیزوں کے ساتھ کیا اس نے وعدہ کی خلاف ورزی کی اور گناہ میں لت پت ہوگیا۔ وہ جس پر غالب آجاتیں ہیں ان کے لیے بدترین شر ہوتی ہیں تو نبی نے ان کی مثال دیتے ہوئے فرمایا تھا : وَہُنَّ شَرُّ غَالِبٍ لِمَنْ غَلَبْ ۔