(۲۱۱۳۰) أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ أَنْبَأَنَا أَبُو سَعِیدٍ ابْنُ الأَعْرَابِیِّ أَنْبَأَنْا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِینَارٍ عَنْ عِکْرِمَۃَ : أَنَّ شَاعِرًا أَتَی النَّبِیَّ -ﷺ- فَقَال النَّبِیُّ -ﷺ- : یَا بِلاَلُ اقْطَعْ عَنِّی لِسَانَہُ ۔ فَأَعْطَاہُ أَرْبَعِینَ دِرْہَمًا وَحُلَّۃً قَالَ : قَطَعْتَ وَاللَّہِ لِسَانِی قَطَعْتَ وَاللَّہِ لِسَانِی۔
ہَذَا مُنْقَطِعٌ۔ وَرُوِیَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ عَمْروٍ مَوْصُولاً بِذِکْرِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَلَیْسَ بِمَحْفُوظٍ۔ [ضعیف]
(٢١١٣٠) حضرت عکرمہ (رض) فرماتی ہیں کہ شاعر لوگ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آتے تھے تو آپ حضرت بلال (رض) سے فرماتے : میری جانب سے اس کی زبان کو خاموش کرواؤ تو ان کو ٤٠ درہم اور ایک حلہ دیا گیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے : تو نے میری جانب سے زبان بند کرا دی ہے، اللہ کی قسم تو نے میری جانب سے زبان بند کردی ہے۔