(۲۱۱۳۹) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ فُورَکَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ وَالْمَسْعُودِیُّ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّۃَ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ الْحَارِثِ یُحَدِّثُ عَنْ أَبِی کَثِیرٍ الزُّبَیْدِیِّ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : إِیَّاکُمْ وَالظُّلْمَ فَإِنَّ الظُّلْمَ ظُلُمَاتٌ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَإِیَّاکُمْ وَالْفُحْشَ فَإِنَّ اللَّہَ لاَ یُحِبُّ الْفُحْشَ وَلاَ التَّفَحُّشَ وَإِیَّاکُمْ وَالشُّحَّ فَإِنَّہُ أَہْلَکَ مَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ أَمَرَہُمْ بِالْقَطِیعَۃِ فَقَطَعُوا وَأَمَرَہُمْ بِالْبُخْلِ فَبَخَلُوا وَأَمَرَہُمْ بِالْفُجُورِ فَفَجَرُوا ۔ فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ أَیُّ الإِسْلاَمِ أَفْضَلُ؟ قَالَ شُعْبَۃُ فِی حَدِیثِہِ : مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِہِ وَیَدِہِ ۔ وَقَالَ الْمَسْعُودِیُّ : أَنْ یَسْلَمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِہِ وَیَدِہِ ۔ فَقَامَ ذَلِکَ أَوْ غَیْرُہُ فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ أَیُّ الْہِجْرَۃِ أَفْضَلُ؟ قَالَ : أَنْ تَہْجُرَ مَا کَرِہَ رَبُّکَ ۔ وَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : الْہِجْرَۃُ ہِجْرَتَانِ ہِجْرَۃُ الْحَاضِرِ وَہِجْرَۃُ الْبَادِی فَأَمَّا الْبَادِی فَیُجِیبُ إِذَا دُعِیَ وَیُطِیعُ إِذَا أُمِرَ وَأَمَّا الْحَاضِرُ فَہُوَ أَعْظَمُہُمَا بَلِیَّۃً وَأَفْضَلُہُمَا أَجْرًا ۔ وَقَالَ الْمَسْعُودِیُّ : وَنَادَاہُ رَجُلٌ فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ أَیُّ الشُّہَدَائِ أَفْضَلُ؟ قَالَ : أَنْ یُعْقَرَ جَوَادُکَ وَیُہْرَاقَ دَمُکَ ۔
[صحیح۔ الطیالسی ۲۳۸۶]
(٢١١٣٩) عبداللہ بن عمر بن عاص (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” ظلم سے بچو، کیونکہ ظلم قیامت والے دن اندھیروں کی شکل میں ہوں گے اور فحش گوئی سے بچو کیونکہ اللہ فحش گوئی کو پسند نہیں فرماتے اور بخل سے بچو کیونکہ اس نے تم سے پہلے لوگوں کو ہلاک کردیا۔ اس نے ان کو قطع رحمی بخل اور گناہ کا حکم دیاتو انھوں نے یہ کام کہے۔ ایک آدمی کھڑا ہوا۔ اس نے پوچھا : ” اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! کون سا اسلام افضل ہے ؟ شعبہ اس حدیث کے بارے میں فرماتے ہیں کہ شخص شخص کی زبان اور ہاتھ سے مسلمان محفوظ رہیں، مسعودی فرماتے ہیں کہ مسلمان اس کی زبان اور ہاتھ سے محفوظ رہیں۔ پھر وہی شخص یا اس کے علاوہ دوسرا شخص کھڑا ہوا اور کہنے لگا کہ اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! کونسی ہجرت افضل ہے ؟ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ جس کو تیرا رب نہ پسند کرے اس کو چھوڑ دے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ ہجرت کی دو قسمیں ہیں : 1 شہری آدمی کا ہجرت کرنا 2 دیہاتی کا ہجرت کرنا۔
دیہاتی دعوت کو قبول کرے گا جب اس کو بلایا جائے گا اور حکم کی تعمیل کرے گا جب اس کو حکم دیا جائے گا اور شہری کی آزمائش بڑی ہوتی ہے اور اس کا اجر بھی زیادہ ہوتا ہے۔
معودی فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو آواز دی کہ اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! افضل شہید کون ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس کے گھوڑے کی کونچیں پھاڑ دی جائیں اور خون بہا دیا جائے۔