(۲۱۱۴۱) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ أَنْبَأَنَا أَبُو عَمْرِو بْنُ السَّمَّاکِ حَدَّثَنَا حَنْبَلُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْمَاعِیلَ عَنِ الْمُجَالِدِ عَنِ الشَّعْبِیِّ قَالَ : کُنَّا نَتَنَاشَدُ الأَشْعَارَ عِنْدَ الْکَعْبَۃِ فَأَقْبَلَ ابْنُ الزُّبَیْرِ إِلَیْنَا فَقَالَ أَفِی حَرَمِ اللَّہِ وَعِنْدَ کَعْبَۃِ اللَّہِ تَتَنَاشَدُونَ الشِّعْرَ؟ فَأَقْبَلَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ کَانَ مَعَنَا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ -ﷺ- فَقَالَ : یَا ابْنَ الزُّبَیْرِ إِنَّہُ لَیْسَ بِکَ بَأْسٌ إِنْ لَمْ تُفْسِدْ نَفْسَکَ إِنَّ نَبِیَّ اللَّہِ -ﷺ- إِنَّمَا نَہَی عَنِ الشِّعْرِ إِذَا أُبِّنَتْ فِیہِ النِّسَائُ وَبُذِّرَ فِیہِ الأَمْوَالُ۔ [ضعیف]
(٢١١٤١) امام شعبی (رح) سے منقول ہے کہ ہم بیت اللہ کے پاس اشعارپڑھ رہے تھے۔ ہمارے پاس ابن زبیر آئے اور فرمانے لگے : کیا اللہ کے حرم اور بیت اللہ کے پاس تم اشعار پڑھ رہے ہو ؟ تو ایک انصاری صحابی جو ہمارے ساتھ موجود تھے، کہنے لگے کہ اے ابن زبیر ! کوئی حرج نہیں اگر آپ اپنے آپ کو خراب نہ کریں، کیونکہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان اشعار سے منع کرتے تھے، جن کا موضوع عورتیں ہوں اور اس میں مال خرچ کیا جائے۔