(۲۱۲۱) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَیْہِ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا أَبُو الْیَمَانِ أَخْبَرَنَا حَرِیزُ بْنُ عُثْمَانَ الرَّحَبِیُّ عَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ عَاصِمِ بْنِ حُمَیْدٍ السَّکُونِیِّ صَاحِبِ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ عَنْ مُعَاذٍ قَالَ: بَقَیْنَا رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- لِصَلاَۃِ الْعَتَمَۃِ لَیْلَۃً فَتَأَخَّرَ بِہَا حَتَّی ظَنَّ الظَّانُّ أَنْ قَدْ صَلَّی أَوْ لَیْسَ بِخَارِجٍ ثُمَّ إِنَّہُ خَرَجَ بَعْدُ فَقَالَ لَہُ قَائِلٌ: یَا نَبِیَّ اللَّہِ لَقَدْ ظَنَنَّا أَنَّکَ قَدْ صَلَّیْتَ یَا نَبِیَّ اللَّہِ أَوْ لَسْتَ بِخَارِجٍ۔ فَقَالَ لَنَا -ﷺ- : ((أَعْتِمُوا بِہَذِہِ الصَّلاَۃِ ، فَإِنَّکُمْ قَدْ فُضِّلْتُمْ بِہَا عَلَی سَائِرِ الأُمَمِ ، وَلَمْ تُصَلِّہَا أُمَّۃٌ قَبْلَکُمْ)) ۔ [صحیح۔ اخرجہ احمد ۵/۲۳۷]
(٢١٢١) حضرت معاذ بن جبل (رض) سے روایت ہے کہ ہم ایک رات عشا کی نماز کے لیے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا انتظار کر رہے تھے۔
آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تاخیر ہوگئی حتیٰ کہ بعض لوگوں نے یہ سمجھا کہ شاید آپ نے نماز پڑھ لی ہے یا آپ اب تشریف نہیں لائیں گے۔ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائیتو ایک شخص کہنے لگا : اے اللہ کے نبی ! ہم تو یہ سمجھ بیٹھے تھے کہ آپ ضرور نماز ادا کرچکے ہوں گے یا آج آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف نہیں لائیں گے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس نماز کو تاخیر سے پڑھا کرو، کیونکہ تمہیں اس نماز کی وجہ سے سابقہ امتوں پر فضیلت دی گئی ہے اور تم سے پہلے کسی امت نے یہ نماز ادا نہیں کی۔