(۲۱۲۰۵) أَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِی طَاہِرٍ الْعَنْبَرِیُّ أَنْبَأَنَا جَدِّی یَحْیَی بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِی حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ أَنْبَأَنَا جَرِیرٌ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الأَدِیبُ أَنْبَأَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا عُثْمَانُ حَدَّثَنَا جَرِیرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ أَبِی وَائِلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ قَالَ : مَنْ حَلَفَ عَلَی یَمِینٍ یَسْتَحِقُّ بِہَا مَالاً وَہُوَ فِیہَا فَاجِرٌ لَقِیَ اللَّہَ وَہُوَ عَلَیْہِ غَضْبَانُ وَتَصْدِیقُ ذَلِکَ فِی کِتَابِ اللَّہِ { إِنَّ الَّذِینَ یَشْتَرُونَ بِعَہْدِ اللَّہِ وَأَیْمَانِہِمْ ثَمَنًا قَلِیلاً أُولَئِکَ لاَ خَلاَقَ لَہُمْ فِی الآخِرَۃِ } الآیَۃَ۔ قَالَ ثُمَّ إِنَّ الأَشْعَثَ بْنَ قَیْسٍ خَرَجَ إِلَیْنَا فَقَالَ مَا یُحَدِّثُکُمْ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ فَحَدَّثَنَاہُ بِمَا قَالَ فَقَالَ صَدَقَ لَفِیَّ نَزَلَتْ کَانَتْ بَیْنِی وَبَیْنَ رَجُلٍ خُصُومَۃٌ فِی بِئْرٍ فَاخْتَصَمْنَا إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ شَاہِدَاکَ أَوْ یَمِینُہُ فَقُلْتُ إِذًا یَحْلِفُ وَلاَ یُبَالِی فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- مَنْ حَلَفَ عَلَی یَمِینٍ یَسْتَحِقُّ بِہَا مَالاً ہُوَ فِیہَا فَاجِرٌ لَقِیَ اللَّہَ وَہُوَ عَلیْہِ غَضْبَانُ فَأَنْزَلَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ تَصْدِیقَ ذَلِکَ ثُمَّ اقْتَرَأَ ہَذِہِ الآیَۃَ { إِنَّ الَّذِینَ یَشْتَرُونَ بِعَہْدِ اللَّہِ وَأَیْمَانِہِمْ ثَمَنًا قَلِیلاً } الآیَۃَ لَفْظُ حَدِیثِ إِسْحَاقَ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاہِیمَ۔
[صحیح۔ متفق علیہ]
(٢١٢٠٥) حضرت عبداللہ فرماتے ہیں کہ جس نے قسم اٹھا کر غیر کے مال کو ہڑپ کرنا چاہا حالانکہ وہ قسم میں جھوٹا تھا اس کی تو وہ اللہ سے اس حالت میں ملے گا کہ اللہ اس سے ناراض ہوں گے صدیق قرآن میں ہے : { اِنَّ الَّذِیْنَ یَشْتَرُوْنَ بِعَھْدِ اللّٰہِ وَ اَیْمَانِھِمْ ثَمَنًا قَلِیْلًا } [اٰل عمران ٧٧] ” بیشک وہ لوگ جو اللہ کے عہد اور اپنے قسموں کے ذریعے تھوڑی قیمت وصول کرتے ہیں۔ “ پھر اشعث بن قیس ہمارے پاس آئے۔ فرمانے لگے : ابو عبدالرحمن نے تمہیں کیا بیان کیا ؟ فرمایا : ہم نے وہ بیان کردیا جو انھوں نے فرمایا تھا، فرمانے لگے : انھوں نے سچ فرمایا۔ یہ آیت میرے بارے میں نازل ہوئی، کیونکہ میرے اور ایک شخص کے درمیان کنویں کا جھگڑا تھا۔ ہم اپنا جھگڑا لے کر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس گئے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تیرے ذمہ دلیل اور اس کے ذمہ قسم ہے، میں نے کہا : وہ قسم اٹھالے گا، وہ اس کی پر وہ نہ کرے گا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس نے قسم اٹھائی اور وہ جھوٹا ہے وہ اللہ سے ملاقات کرے گا اور اللہ اس پر ناراض ہوں گے، اللہ نے اس کی تصدیق نازل کی، پھر یہ آیت تلاوت کی،{ اِنَّ الَّذِیْنَ یَشْتَرُوْنَ بِعَھْدِ اللّٰہِ وَ اَیْمَانِھِمْ ثَمَنًا قَلِیْلًا } [اٰل عمران ٧٧] ” بیشک وہ لوگ جو اللہ کے عہد اور اپنے قسموں کے ذریعے تھوڑی قیمت وصول کرتے ہیں۔ “