(۲۱۲۵۰) وَأَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ أَنْبَأَنَا أَبُو الْفَضْلِ أَنْبَأَنَا أَحْمَدُ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ أَنْبَأَنَا أَبُو مَالِکٍ الأَشْجَعِیُّ قَالَ : شَہِدْتُ شُرَیْحًا وَاخْتَصَمَ إِلَیْہِ رَجُلاَنِ ادَّعَی أَحَدُہُمَا قِبَلَ الآخَرِ دَابَّۃً وَأَنَّہُ یَزْعُمُ أَنَّہَا دَابَّتُہُ أَنْتَجَہَا فَسَأَلَہُ شُرَیْحٌ الْبَیِّنَۃَ فَجَائَ ہُ بِثَمَانِیَۃِ رَہْطٍ فَشَہِدُوا لَہُ فَقَالَ الَّذِی فِی یَدِہِ الدَّابَّۃُ اسْتَحْلِفْہُ فَقَالَ : احْلِفْ ۔ فَقَالَ لَہُ : أَثْبَتُّ عِنْدَکَ بِثَمَانِیَۃٍ مِنَ الشُّہُودِ فَقَالَ شُرَیْحٌ : لَوْ أَثْبَتَّ عِنْدِی کَذَا وَکَذَا شَاہِدًا مَا قَضَیْتُ لَکَ حَتَّی تَحْلِفَ۔ [صحیح]
(٢١٢٥٠) ابومالک اشجعی فرماتے ہیں کہ میں قاضی شریح کے پاس آیا، دو آدمی ایک چوپائے کا جھگڑا لے کر آئے کہ چوپائے نے اس کے پاس جنم دیا ہے۔ قاضی شریح نے گواہ کا مطالبہ کیا۔ وہ آٹھ لوگوں کے گروہ کو بطور گواہ لے آیا۔ جس کے قبضہ میں جانور تھا وہ کہنے لگا : ان سے قسم کا مطالبہ کرو تو قاضی نے ان سے قسم کا مطالبہ کیا۔ وہ کہنے لگا : دیکھو میں نے آٹھ گواہ پیش کردیے ہیں تو قاضی شریح کہنے لگے : جتنے مرضی گواہ پیش کر دو جتنی دیر خود قسم نہ دو گے، آپ کے حق میں فیصلہ نہ کیا جائے گا۔