(۲۱۲۶۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَنْبَأَنَا أَبُو الْوَلِیدِ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الأَکَفَانِیُّ حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا ابْنُ وَہْبٍ حَدَّثَنِی عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِی الزِّنَادِ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ یَحْیَی بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَاطِبٍ عَنْ أَبِیہِ قَالَ : أَتَی رَجُلاَنِ إِلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَخْتَصِمَانِ فِی غُلاَمٍ مِنْ وِلاَدِ الْجَاہِلِیَّۃِ یَقُولُ ہَذَا ہُوَ ابْنِی وَیَقُولُ ہَذَا ہُوَ ابْنِی فَدَعَا عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَائِفًا مِنْ بَنِی الْمُصْطَلِقِ فَسَأَلَہُ عَنِ الْغُلاَمِ فَنَظَرَ إِلَیْہِ الْمُصْطَلَقِیُّ وَنَظَرَ ثُمَّ قَالَ لِعُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : قَدِ اشْتَرَکَا فِیہِ جَمِیعًا۔فَقَامَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ إِلَیْہِ بِالدِّرَّۃِ فَضَرَبَہُ بِہَا قَالَ وَذَکَرَ الْحَدِیثَ قَالَ فَقَالَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ لِلْغُلاَمِ : اتَّبِعْ أَیَّہُمَا شِئْتَ فَقَامَ الْغُلاَمُ فَاتَّبَعَ أَحَدَہُمَا قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ فَکَأَنِّی أَنْظُرُ إِلَیْہِ مُتَّبِعًا أَحَدَہُمَا یَذْہَبُ وَقَالَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَاتَلَ اللَّہُ أَخَا بَنِی الْمُصْطَلِقِ۔ [صحیح لغیرہ]
(٢١٢٦١) یحییٰ بن عبدالرحمن بن حاطب اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ دو شخص حضرت عمر بن خطاب (رض) کے پاس جاہلیت کے بچے کا جھگڑا لے کر آئے۔ ایک کہتا : میرا بیٹا ہے اور دوسرا کہتا : میرا بیٹا ہے تو حضرت عمر (رض) نے بنو مصطلق کا قیافہ شناس بلوایاتو اس نے بچے کو دیکھا اور کہا : اس میں یہ دونوں ہی شریک ہیں۔ حضرت عمر (رض) نے اس کو درہ سے مارا اور بچے سے کہا : جس کے ساتھ جانا چاہو چلے جاؤ تو بچہ ایک کے ساتھ چلا گیا۔ عبدالرحمن کہتے ہیں کہ بچے نے ایک کا ساتھ لیا اور چل دیا اور حضرت عمر (رض) نے فرمایا : مصطلق کو اللہ ہلاک کرے۔