hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 21271

.

سنن البيهقي

21271
Sunan Al Bayhaqi
(۲۱۲۶۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی طَالِبٍ أَنْبَأَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ حَدَّثَنَا ہَمَّامُ بْنُ یَحْیَی عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ : أَنَّ رَجُلَیْنِ اشْتَرَکَا فِی طُہْرِ امْرَأَۃٍ فَوَلَدَتْ وَلَدًا فَارْتَفَعُوا إِلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَدَعَا لَہُمْ ثَلاَثَۃً مِنَ الْقَافَۃِ فَدَعُوا بِتُرَابٍ فَوَطِئَ فِیہِ الرَّجُلاَنِ وَالْغُلاَمُ ثُمَّ قَالَ لأَحَدِہِمُ انْظُرْ فَنَظَرَ فَاسْتَقْبَلَ وَاسْتَعْرَضَ وَاسْتَدْبَرَ ثُمَّ قَالَ أُسِرُّ أَمْ أُعْلِنُ فَقَالَ بَلْ أَسِرَّ فَقَالَ لَقَدْ أَخَذَ الشَّبَہَ مِنْہُمَا جَمِیعًا فَمَا أَدْرِی لأَیِّہِمَا ہُوَ فَأَجْلَسَہُ ثُمَّ قَالَ لِلآخَرِ انْظُرْ فَنَظَرَ وَاسْتَقْبَلَ وَاسْتَعْرَضَ وَاسْتَدْبَرَ ثُمَّ قَالَ أُسِرُّ أَمْ أُعْلِنُ فَقَالَ بَلْ أَسِرَّ فَقَالَ لَقَدْ أَخَذَ الشَّبَہَ مِنْہُمَا جَمِیعًا فَمَا أَدْرِی لأَیِّہِمَا ہُوَ فَأَجْلَسَہُ ثُمَّ قَالَ لِلثَّالِثِ انْظُرْ فَنَظَرَ فَاسْتَقْبَلَ وَاسْتَعْرَضَ وَاسْتَدْبَرَ ثُمَّ قَالَ : أُسِرُّ أَمْ أُعْلِنُ؟ فَقَالَ : بَلْ أَعْلِنْ۔ فَقَالَ : لَقَدْ أَخَذَ الشَّبَہُ مِنْہُمَا جَمِیعًا فَمَا أَدْرِی لأَیِّہِمَا ہُوَ فَقَالَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : إِنَّا نَقُوفُ الآثَارَ ثَلاَثًا یَقُولُہَا وَکَانَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَائِفًا فَجَعَلَہُ لَہُمَا یَرِثَانِہِ وَیَرِثُہُمَا فَقَالَ سَعِیدٌ أَتَدْرِی مَنْ عَصَبَتُہُ قُلْتُ لاَ قَالَ الْبَاقِی مِنْہُمَا۔ [حسن]
(٢١٢٦٥) سعید بن مسیب فرماتے ہیں کہ دو آدمی ایک عورت کے پاس جاتے۔ اس نے بچہ جنم دیا، وہ جھگڑا لے کر حضرت عمر (رض) کے پاس آئے۔ انھوں نے تین قیافہ شناس منگوائے۔ انھوں نے مٹی منگوائی جس کے اندر دونوں آدمیوں نے وطی کی۔ اور بچہ بھی وہاں ہی تھا۔ پھر ان میں سے ایک سے کہا : دیکھو۔ قیافہ شناس متوجہ ہوا، اعراض کیا اور پیٹھ پھیری۔ پھر کہا : ظاہر کروں یا پوشیدہ رکھوں ؟ کہا : پوشیدہ رکھو۔ پھر دوسرے نے دیکھا، اس نے بھی کہا کہ ظاہر کروں یا پوشیدہ رکھوں ؟ کہا گیا : پوشیدہ رکھو۔ مشابہت دونوں کے ساتھ تھی، لیکن معلوم نہ ہوسکا کہ یہ کس کا ہے، پھر تیسرے کو حکم ہوا دیکھو۔ اس نے دیکھا، پوچھا : ظاہر کروں یا پوشیدہ رکھوں ؟ فرمایا ظاہر کرو۔ اس نے کہا : مشابہت دونوں کے ساتھ ہے لیکن کس کا ہے پتہ نہیں چلتا تو حضرت عمر (رض) نے بچے کو ان کا وارث بنادیا اور وہ اس کے وارث ہوں گے۔ سعید فرماتے ہیں : اس کے عصبات کون ہیں ؟ میں نے کہا : کوئی نہیں۔