(۲۱۲۹۶) وَقَدْ رُوِیَ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ مَا أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ الأَصْبَہَانِیُّ أَنْبَأَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ الأَعْرَابِیِّ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِیُّ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ سُلَیْمَانَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَیْمَانَ حَدَّثَنَا رَقَبَۃُ قَالَ قَالَ : خَرَجَ یَزِیدُ بْنُ أَبِی مُسْلِمٍ مِنْ عِنْدِ الْحَجَّاجِ فَقَالَ لَقَدْ قَضَی الأَمِیرُ بِقَضِیَّۃٍ فَقَالَ لَہُ الشَّعْبِیُّ وَمَا ہِیَ فَقَالَ قَالَ مَا کَانَ لِلرَّجُلِ فَہُوَ لِلرَّجُلِ وَمَا کَانَ لِلنِّسَائِ فَہُوَ لِلْمَرْأَۃِ فَقَالَ لِلشَّعْبِیِّ : قَضَائُ رَجُلٍ مِنْ أَہْلِ بَدْرٍ۔ قَالَ : وَمَنْ ہُوَ۔ قَالَ : لاَ أُخْبِرُکَ۔ قَالَ : مَنْ ہُوَ عَلَیَّ عَہْدُ اللَّہِ وَمِیثَاقُہُ أَنْ لاَ أُخْبِرَہُ قَالَ ہُوَ عَلِیُّ بْنُ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ فَدَخَلَ عَلَی الْحَجَّاجِ فَأَخْبَرَہُ فَقَالَ الْحَجَّاجُ صَدَقَ وَیْحَکَ إِنَّا لَمْ نَنْقِمْ عَلَی عَلِیٍّ قَضَائَ ہُ قَدْ عَلِمْنَا أَنَّ عَلِیًّا کَانَ أَقْضَاہُمْ۔ [ضعیف]
(٢١٢٩٦) رقبہ فرماتے ہیں کہ یزید بن ابی اسلم حجاج کے پاس سے آئے۔ کہتے ہیں کہ امیرالمومنین نے ایک فیصلہ فرمایا، شعبی نے پوچھا : وہ کیا ہے ؟ جو مرد کا سامان ہے ، اسی کا ہے۔ جو عورت کا ہے اسی کا ہے، اس نے شعبی سے کہا کہ آدمی کا فیصلہ جو اہل بدر میں سے تھے۔ فرماتے ہیں : وہ کون تھا ؟ کہنے لگے : میں خبر نہ دوں گا۔
پھر فرماتے ہیں کہ یہ کوئی اللہ کا عہد ومیثاق نہیں کہ میں خبر نہ دوں۔ فرمایا : وہ علی بن ابی طالب تھے۔ پھر وہ حجاج کے پاس گئے، اس کو خبر دی تو حجاج کہنے لگا : اس نے سچ بولا۔ ہم حضرت علی (رض) سے ان کے فیصلے کا انتقام نہ لیں گے۔ ہم جانتے ہیں کہ ان کا فیصلہ حضرت علی (رض) نے کیا تھا۔