(۲۱۲۹۸) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی وَأَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَنْبَأَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَنْبَأَنَا الشَّافِعِیُّ أَنْبَأَنَا أَنَسُ بْنُ عِیَاضٍ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو الْوَلِیدِ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ أَبِی طَالِبٍ حَدَّثَنَا کُرَیْبٌ حَدَّثَنَا وَکِیعٌ وَابْنُ نُمَیْرٍ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ : جَائَ تْ ہِنْدٌ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَتْ : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنَّ أَبَا سُفْیَانَ رَجُلٌ شَحِیحٌ وَلاَ یُنْفِقُ عَلَیَّ وَلاَ عَلَی وَلَدِی مَا یَکْفِینِی وَبَنِیَّ أَفَآخُذُ مِنْ مَالِہِ وَہُوَ لاَ یَشْعُرُ؟ فَقَالَ : خُذِی مَا یَکْفِیکِ وَوَلَدَکِ بِالْمَعْرُوفِ ۔
وَفِی رِوَایَۃِ أَنَسِ بْنِ عِیَاضٍ : وَأَنَّہُ لاَ یُعْطِینِی مَا یَکْفِینِی وَوَلَدِی إِلاَّ مَا أَخَذْتُ مِنْہُ سِرًّا وَہُوَ لاَ یَعْلَمُ فَہَل عَلَیَّ فِی ذَلِکَ مِنْ شَیْئٍ ؟ ثُمَّ ذَکَرَہُ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی کُرَیْبٍ وَأَخْرَجَاہُ مِنْ حَدِیثِ الزُّہْرِیِّ عَنْ عُرْوَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا۔
(٢١٢٩٨) حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں : ہند رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئی اور کہنے لگی : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ابوسفیان کنجوس، بخیل آدمی ہے۔ میرے اور اپنی اولاد پر اتنا خرچ نہیں کرتا جو مجھے یا میری اولاد کو کفایت کر جائے۔ اس کو معلوم نہ ہو تو اس کا مال لے لوں ؟ فرمایا : اتنا لے لو جتنا تجھے اور تیری اولاد کو کفایت کر جائے۔
(ب) انس بن عیاض کی روایت میں ہے کہ وہ مجھے نہیں دیتا جو مجھے اور میری اولاد کو کفایت کر جائے، لیکن مخفی طور پر جو لے لوں اور اس کو معلوم نہ ہو۔ کیا میرے اوپر کوئی گناہ تو نہیں ہے ؟ [صحیح۔ تقدم قبلہ ]