hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 2133

.

سنن البيهقي

2133
Sunan Al Bayhaqi
(۲۱۳۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو مُحَمَّدٍ: أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْمُزَنِیُّ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِیسَی حَدَّثَنَا أَبُو الْیَمَانِ أَخْبَرَنِی شُعَیْبٌ عَنِ الزُّہْرِیِّ أَخْبَرَنِی سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِی حَثْمَۃَ أَنَّ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عُمَرَ قَالَ: صَلَّی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- صَلاَۃَ الْعِشَائِ فِی آخِرِ حَیَاتِہِ ، فَلَمَّا سَلَّمَ قَامَ فَقَالَ: ((أَرَأَیْتَکُمْ لَیْلَتَکُمْ ہَذِہِ فَإِنَّ عَلَی رَأْسِ مِائَۃِ سَنَۃٍ مِنْہَا لاَ یَبْقَی مِمَّنْ ہُوَ الْیَوْمَ عَلَی ظَہْرِ الأَرْضِ أَحَدٌ))۔ قَالَ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ: فَوَہِلَ النَّاسُ فِی مَقَالَۃِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- إِلَی مَا یَتَحَدَّثُونَ مِنْ ہَذِہِ الأَحَادِیثِ عَنْ مِائَۃِ سَنَۃٍ ، وَإِنَّمَا قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((لاَ یَبْقَی مِمَّنْ ہُوَ الْیَوْمَ عَلَی ظَہْرِ الأَرْضِ أَحَدٌ)) ۔ یُرِیدُ بِذَلِکَ أَنَّہَا تَخْرِمُ ذَلِکَ الْقَرْنَ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی الْیَمَانِ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِی الْیَمَانِ۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری ۱۱۶]
(٢١٣٣) (ا) حضرت عبداللہ بن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی زندگی کے آخری ایام میں عشا کی نماز پڑھائی۔ جب نماز سے فارغ ہوئے تو کھڑے ہو کر فرمایا : تمہارا اس رات کے بارے میں کیا خیال ہے ؟ پھر فرمایا : سو برس کے ختم ہونے تک جتنے لوگ زمین پر ہیں، ان میں سے کوئی بھی زندہ نہیں رہے گا۔
(ب) حضرت عبداللہ بن عمر (رض) فرماتے ہیں : لوگ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان سننے میں غلطی کھا گئے حتیٰ کہ جن احادیث میں سو سال کا ذکر ہے، اس سے کچھ اور سمجھنے لگے یعنی سو برس بعد قیامت آجائے گی، حالانکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی یہ مراد نہیں تھی۔ بلکہ مقصد یہ تھا کہ جو آدمی آج اس زمین پر موجود ہیں ان میں سے کوئی بھی زندہ نہیں رہے گا۔ آپ اس سے صدی کا ختم ہونا مراد لے رہے تھے۔ یعنی یہ زمانہ سو برس میں گزر جائے گا۔