(۲۱۳۲۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ فِی آخَرِینَ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَنْبَأَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَنْبَأَنَا الشَّافِعِیُّ أَنْبَأَنَا سُفْیَانُ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِینَارٍ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ عَنْ أَبِیہِ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : أَیُّمَا عَبْدٍ کَانَ بَیْنَ اثْنَیْنِ وَأَعْتَقَ أَحَدُہُمَا نَصِیبَہُ فَإِنْ کَانَ مُوسِرًا فَإِنَّہُ یُقَوَّمُ عَلَیْہِ بِأَغْلَی الْقِیمَۃِ أَوْ قِیمَۃَ عَدْلٍ لَیْسَتْ بِوَکْسٍ وَلاَ شَطَطٍ ثُمَّ یَغْرَمُ لِہَذَا حِصَّتَہُ ۔
کَذَا رَوَاہُ الشَّافِعِیُّ فِی کِتَابِ اخْتِلاَفِ الأَحَادِیثِ وَرَوَاہُ فِی کِتَابِ الْقُرْعَۃِ فَقَالَ : بِأِغْلَی الْقِیمَۃِ وَیَعْتِقُ ۔ وَرُبَّمَا قَالَ : قِیمَۃٍ لاَ وَکْسَ فِیہَا وَلاَ شَطَطَ ۔
رَوَاہُ الْحُمَیْدِیُّ عَنْ سُفْیَانَ نَحْوَ الرِّوَایَۃِ الأُولَی عَنِ الشَّافِعِیِّ زَادَ ثُمَّ یَعْتِقُ وَزَادَ قَالَ سُفْیَانُ : کَانَ عَمْرٌو یَشُکُّ فِیہِ ہَکَذَا۔ [صحیح۔ متفق علیہ]
(٢١٣٢٨) سالم بن عبداللہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو دو بندوں کا غلام تھا، ایک نے اپنا حصہ آزاد کردیا، اگر وہ مال دار ہے تو مہنگی قیمت یا عدل والی قیمت مقرر کی جائے گی، اس میں کمی بیشی نہ کی جائے گی۔ پھر اس پر باقی حصص کی چٹی ڈالی جائے گی۔
(ب) امام شافعی (رح) نے فرمایا کہ مہنگی قیمت مقرر ہوگی اور آزاد کیا جائے گا۔ لیکن قیمت کے اندر کمی، بیشی نہ کی جائے گی۔