(۲۱۳۴۳) وَرَوَاہُ غَیْرُہُ عَنْ بِشْرٍ : مَنْ أَعْتَقَ شِرْکًا فِی عَبْدٍ فَقَدْ عَتَقَ کُلُّہُ إِنْ کَانَ لِلَّذِی عَتَقَ نَصِیبَہُ مِنَ الْمَالِ مَا یَبْلُغُ ثَمَنَہُ یُقِیِّمُہُ عَلَیْہِ قِیمَۃَ الْعَدْلِ فَیَدْفَعُ إِلَی شُرَکَائِہِ أَنْصِبَائَ ہُمْ وَیُخَلِّی سَبِیلَہُ ۔
أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَمْرٍو الأَدِیبُ أَنْبَأَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ أَخْبَرَنِی یَحْیَی بْنُ مُحَمَّدٍ الْحِنَّائِیُّ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ ہُوَ ابْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا بِشْرٌ فَذَکَرَہُ بِإِسْنَادِہِ۔
وَبِمَعْنَاہُ رَوَاہُ یَحْیَی الْقَطَّانُ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ۔ [صحیح۔ تقدم قبلہ]
(٢١٣٤٣) بشر فرماتے ہیں کہ جس نے غلام کا حصہ آزاد کردیا، گویا اس نے مکمل غلام آزاد کردیا۔ اگر اس کے پاس مال ہو تو عدل والیقیمت مقرر کی جائے گی۔ ان کے شرکاء کو ان کے حصے دیے جائیں گے اور اس کا راستہ چھوڑ دیا جائے گا۔