(۲۱۴۰۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ الْمُنَادِی حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا شَیْبَانُ عَنْ قَتَادَۃَ فِی قَوْلِہِ { فَسَاہَمَ فَکَانَ مِنَ الْمُدْحَضِینَ } [الصافات ۱۴۱] قَالَ قَارَعَ نَبِیُّ اللَّہِ یُونُسُ عَلَیْہِ السَّلاَمُ فَقُرِعَ قَالَ احْتَبَسَتِ السَّفِینَۃُ فَعَلِمَ الْقَوْمُ إِنَّمَا احْتَبَسَتْ مِنْ حَدَثٍ أَحْدَثَہُ بَعْضُہُمْ فَتَسَاہَمُوا فَقَرَعَ یُونُسُ -ﷺ- فَرَمَی بِنَفْسِہِ {فَالْتَقَمَہُ الْحُوتُ وَہُوَ مُلِیمٌ} [الصافات ۱۴۲] قَالَ وَہُوَ مُسِیئٌ فِیمَا صَنَعَ { فَلَوْلاَ أَنَّہُ کَانَ مِنَ الْمُسَبِّحِینَ } [الصافات ۱۴۳] قَالَ کَانَ کَثِیرَ الصَّلاَۃِ فِی الرَّخَائِ فَأَنْجَاہُ۔
قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ : وَقُرْعَۃُ النَّبِیِّ -ﷺ- فِی کُلِّ مَوْضِعٍ أَقْرَعَ فِیہِ فِی مِثْلِ مَعْنَی الَّذِینَ اقْتَرَعُوا عَلَی کَفَالَۃِ مَرْیَمَ سَوَائً لاَ تُخَالِفُہُ وَبَسَطَ الْکَلاَمَ فِی شَرْحِ ذَلِکَ وَاسْتَدَلَّ بِمَا رُوِّینَا فِی حَدِیثِ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- فِی الْعَبِیدِ۔ [صحیح]
(٢١٤٠٥) قتادہ فرماتے ہیں کہ { فَسَاہَمَ فَکَانَ مِنَ الْمُدْحَضِینَ } [الصافات ١٤١] اس نے قرعہ اندازی کی اور وہ ہار گئے۔ اللہ کے نبی یونس نے بھی قرعہ ڈالا، قرعہ میں ہار گئے۔ راوی کہتے ہیں : کشتی گھیر لی گئی۔ قوم سمجھ گئی کسی حادثہ کی وجہ سے ہے تو انھوں نے قرعہ ڈالا جو یونس (علیہ السلام) کے نام نکلا تو انھوں نے دریا میں چھلانگ لگا دی : { فَالْتَقَمَہُ الْحُوتُ وَہُوَ مُلِیْمٌ} [الصافات ١٤٢] مچھلی اس کو نگل گئی وہ اپنے آپ کو ملامت کر رہے تھے۔ وہ اپنے کیے پر نادم تھے۔ { فَلَوْلاَ اَنَّہٗ کَانَ مِنَ الْمُسَبِّحِیْنَ }[الصافات ١٤٣] اگر وہ وہ تسبیح کرنے والوں میں سے نہ ہوتے۔ یعنی آسانی میں بہت زیادہ نماز پڑھنے والے تھے تو اس کو نجات طا کی ۔
قال الشافعی : نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بھی ہر موقع پر قرعہ ڈالا جیسے انھوں نے مریم کی کفالت کے بارہ میں قرعہ ڈالا۔