(۲۱۴۱۰) أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَنْبَأَنَا أَبُو جَعْفَرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سَعِیدٍ الرَّازِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ وَارَہْ حَدَّثَنَا أَبُو نُعَیْمٍ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَنْبَأَنَا أَبُو مَنْصُورٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ الْعَتَکِیُّ أَنْبَأَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو نُعَیْمٍ حَدَّثَنَا زَکَرِیَّا قَالَ سَمِعْتُ عَامِرًا یَقُولُ سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِیرٍ یَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : مَثَلُ الْقَائِمِ عَلَی حُدُودِ اللَّہِ وَالْوَاقِعِ فِیہَا کَمَثَلِ قَوْمٍ اسْتَہَمُوا عَلَی سَفِینَۃٍ فَأَصَابَ بَعْضُہُمْ أَعْلاَہَا وَأَصَابَ بَعْضُہُمْ أَسْفَلَہَا فَکَانَ الَّذِی فِی أَسْفَلِہَا إِذَا اسْتَقَوْا مِنَ الْمَائِ فَمَرُّوا عَلَی مَنْ فَوْقَہُمْ آذَوہُمْ فَقَالُوا لَوْ أَنَّا خَرَقْنَا فِی نَصِیبِنَا خَرْقًا فَاسْتَقَیْنَا مِنْہُ وَلَمْ نُؤْذِ مَنْ فَوْقَنَا فَإِنْ تَرَکُوہُمْ وَمَا أَرَادُوا ہَلَکُوا جَمِیعًا وَإِنْ أَخَذُوا عَلَی أَیْدِیہِمْ نَجَوْا جَمِیعًا ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی نُعَیْمٍ۔ [صحیح۔ بخاری ۲۴۹۳]
(٢١٤١٠) نعمان بن بشیر فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ کی حدوں پر قائم رہنے والا اور حدود اللہ میں واقع ہونے والا ایسے ہیں جیسے دو گروپ کشتی کے بارے میں قرعہ اندازی کرتے ہیں : ایک گروپ کو اوپر والا حصہ ملتا ہے دوسرے کو نیچے والا حصہ تو نیچے والوں کو جب پانی کی ضرورت پیش آتی ہے وہ اوپر والوں کے پاس جاتے ہیں جس کی وجہ سے انھوں نے تکلیف محسوس کی۔ نیچے والے کہنے لگے : اگر ہم اپنے حصہ میں سوراخ کرلیں اور پانی حاصل کریں تاکہ اوپر والے پریشان نہ ہو۔ اگر ان کو چھوڑ دیا، یعنی کام کرنے دیا تو سب ہلاک ہوجائیں گے، اگر ان کے ہاتھ پکڑ لیے تو سب نجات پاجائیں گے۔