hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 21456

.

سنن البيهقي

21456
Sunan Al Bayhaqi
(۲۱۴۵۰) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَنْبَأَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَنْبَأَنَا الشَّافِعِیُّ أَنْبَأَنَا مَالِکٌ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا أَنَّہَا قَالَتْ : جَائَ تْنِی بَرِیرَۃُ فَقَالَتْ إِنِّی کَاتَبْتُ أَہْلِی عَلَی تِسْعِ أَوَاقٍ فِی کُلِّ عَامٍ أُوقِیَّۃٌ فَأَعِینِینِی فَقَالَتْ لَہَا عَائِشَۃُ إِنْ أَحَبَّ أَہْلُکِ أَنْ أَعُدَّہَا لَہُمْ وَیَکُونُ وَلاَؤُکِ لِی فَعَلْتُ فَذَہَبَتْ بَرِیرَۃُ إِلَی أَہْلِہَا یَعْنِی فَقَالَتْ لَہُمْ ذَلِکَ فَأَبَوْا ذَلِکَ عَلَیْہَا فَجَائَ تْ مِنْ عِنْدِ أَہْلِہَا وَرَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- جَالِسٌ فَقَالَتْ : إِنِّی قَدْ عَرَضْتُ ذَلِکَ عَلَیْہِمْ فَأَبَوْا إِلاَّ أَنْ یَکُونَ الْوَلاَئُ لَہُمْ فَسَمِعَ ذَلِکَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَسَأَلَہَا فَأَخْبَرَتْہُ عَائِشَۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : خُذِیہَا وَاشْتَرِطِی لَہُمْ الْوَلاَئَ فَإِنَّ الْوَلاَئَ لِمَنْ أَعْتَقَ ۔ فَفَعَلَتْ عَائِشَۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فِی النَّاسِ فَحَمِدَ اللَّہَ ثُمَّ قَالَ : أَمَّا بَعْدُ فَمَا بَالُ رِجَالٍ یَشْتَرِطُونَ شُرُوطًا لَیْسَتْ فِی کِتَابِ اللَّہِ مَا کَانَ مِنْ شَرْطٍ لَیْسَ فِی کِتَابِ اللَّہِ فَہُوَ بَاطِلٌ وَإِنْ کَانَ مِائَۃَ شَرْطٍ قَضَائُ اللَّہِ أَحَقُّ وَشَرْطُہُ أَوْثَقُ وَإِنَّمَا الْوَلاَئُ لِمَنْ أَعْتَقَ ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ یُوسُفَ وَغَیْرِہِ عَنْ مَالِکٍ۔ [صحیح۔ متفق علیہ]
(٢١٤٥٠) ہشام بن عروہ اپنے والد سے اور وہ حضرت عائشہ (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ فرماتی ہیں کہ میرے پاس بریرہ آئی کہ میں نے اپنے آقا سے نو اوقیوں پر مکاتبت کرلی ہے اور ہر سال ایک اوقیہ دینا ہے، آپ میری مدد کریں۔ حضرت عائشہ (رض) نے اس سے فرمایا : اگر تیرے آقا پسند کریں تو میں یہ رقم ادا کر دوں اور ولاء میرے لیے ہوگی۔ بریرہ نے جا کر یہ بات اپنے آقاؤں کے سامنے بیان کی تو انھوں نے انکار کردیا۔ بریرہ واپس آئی تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی بیٹھے ہوئے تھے۔ بریرہ نے حضرت عائشہ (رض) سے بیان کیا کہ وہ کہتے ہیں : ولاء ان کی ہوگی، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بھی یہ بات سن لی تو حضرت عائشہ (رض) سے سوال کیا۔ حضرت عائشہ (رض) نے خبر دی تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : خریدو اور ولاء کی شرط رکھو۔ ولاء ہوتی ہی آزاد کرنے والے کے لیے ہے تو حضرت عائشہ (رض) نے ایسا ہی کیا، پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لوگوں میں کھڑے ہو کر خطبہ ارشاد فرمایا کہ لوگ ایسی شرطیں لگاتے ہیں جو کتاب اللہ میں موجود نہیں ہیں۔ جو شرط کتاب اللہ میں موجود نہیں وہ باطل ہے۔ اگرچہ سو شرائط بھی ہوں، اللہ کا فیصلہ زیادہ درست ہے اور اس کی شرط زیادہ قوی ہے اور ولاء آزاد کرنے والے کے لیے ہوتی ہے۔