(۲۱۴۵۵) أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الْعَزِیزِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَیْبَانَ الْعَطَّارُ بِبَغْدَادَ حَدَّثَنَا أَبُو عَمْرٍو عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الدَّقَّاقُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ الْمُنَادِی حَدَّثَنَا أَبُو بَدْرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِیزِ بْنُ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِیزِ أَخْبَرَنِی مَنْ لاَ أَتَّہِمُ عَنْ تَمِیمٍ الدَّارِیِّ قَالَ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- عَنِ الرَّجُلِ مِنْ أَہْلِ الْکُفْرِ یُسْلِمُ عَلَی یَدَیِ الرَّجُلِ مِنَ الْمُسْلِمِینَ مَا السُّنَّۃُ فِیہِ قَالَ : ہُوَ أَوْلَی النَّاسِ بِہِ بِمَحْیَاہُ وَمَمَاتِہِ ۔ [ضعیف]
(٢١٤٥٥) تمیم داری فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ایسے آدمی کے بارے میں پوچھا، جو کافر تھا، پھر مسلمان کے ہاتھ پر مسلمان ہوجاتا ہے، اس میں طریقہ کیا ہے ؟ فرمایا : وہ اس کی زندگی و موت کا زیادہ حق دار ہے۔