(۲۱۴۸۴) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِیُّ أَنْبَأَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْکَارِزِیُّ أَنْبَأَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ قَالَ قَالَ أَبُو عُبَیْدٍ یَعْنِی بِقَوْلِہِ لِیَوْمِہِمَا یَوْمَ الْقِیَامَۃِ الْیَوْمُ الَّذِی کَانَ أَعْتَقَ فِیہِ سَائِبَتَہُ وَتَصَدَّقَ بِصَدَقَتِہِ لَہُ یَقُولُ فَلاَ یَرْجِعُ إِلَی الاِنْتِفَاعِ بِشَیْئٍ مِنْہُمَا بَعْدَ ذَلِکَ فِی الدُّنْیَا وَذَلِکَ کَالرَّجُلِ یَعْتِقُ عَبْدَہُ سَائِبَۃً ثُمَّ یَمُوتُ الْمُعْتَقُ وَیَتْرُکُ مَالاً وَلاَ وَارِثَ لَہُ إِلاَّ الَّذِی أَعْتَقَہُ یَقُولُ فَلَیْسَ یَنْبَغِی لَہُ أَنْ یَرْزَأَ مِنْ مِیرَاثِہِ شَیْئًا وَلاَ یَرْزَأُ مِنْ مِیرَاثِ السَّائِبَۃِ شَیْئًا إِلاَّ أَنْ یَجْعَلَہُ فِی مِثْلِہِ۔
وَکَذَلِکَ یُرْوَی عَنِ ابْنِ عُمَرَ۔ وَإِنَّمَا ہَذَا مِنْہُمْ عَلَی وَجْہِ الْفَضْلِ وَالثَّوَابِ لَیْسَ عَلَی أَنَّہُ مُحَرَّمٌ۔ [صحیح]
(٢١٤٨٤) ابوعبید فرماتے ہیں کہ (لیومہما) سے مراد قیامت کا دن ہے، جس دن سائبہ کو آزاد کیا اور صدقہ کیا۔ دوبارہ دنیا میں ان سے فائدہ نہیں اٹھایا، وہ بندہ جو اپنے سائبہ غلام کو آزاد کرتا ہے، پھر آزاد کردہ فوت ہوجاتا ہے، مال چھوڑتا ہے اس کا کوئی وارث نہیں ہوتا، سوائے آزاد کرنے والے کے۔ فرماتے ہیں : اس کی میراث میں کمی نہ ہوگی اور نہ ہی سائبہ کی میراث میں کمی ہوگی۔ لیکن اس جیسوں میں تقسیم کردیا جائے۔