(۲۱۶) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ:عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِیُّ حَدَّثَنَا مَالِکُ بْنُ یَحْیَی حَدَّثَنَا أَبُو بَدْرٍ: شُجَاعُ بْنُ الْوَلِیدِ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ مِہْرَانَ عَنْ أَبِی صَالِحٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ-: ((إِذَا اسْتَیْقَظَ أَحَدُکُمْ مِنَ النَّوْمِ فَلاَ یُدْخِلْ یَدَہُ فِی الإِنَائِ حَتَّی یَغْسِلَ یَدَہُ، فَإِنَّہُ لاَ یَدْرِی أَیْنَ بَاتَتْ یَدُہُ))۔
(ت) قَالَ سُلَیْمَانُ فَذُکِرَ ذَلِکَ لإِبْرَاہِیمَ قَالَ قَدْ قَالَ أَصْحَابُ عَبْدِ اللَّہِ: فَکَیْفَ یَصْنَعُ أَبُو ہُرَیْرَۃَ بِالْمِہْرَاسِ؟ قَالَ سُلَیْمَانُ: فَکَانُوا لاَ یَرَوْنَ بَأْسًا أَنْ یُدْخِلَہَا إِذَا کَانَتْ نَظِیفَۃً۔
(ق) وَاحْتَجَّ الشَّافِعِیُّ بِحَدِیثِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ-فِی تَرْکِ الْوُضُوئِ عِنْدَ الطَّعَامِ بَعْدَ مَا خَرَجَ مِنَ الْخَلاَئِ وَقَدْ مَضَی ذِکْرُہُ۔
قَالَ الشَّیْخُ وَاحْتَجَّ أَصْحَابُنَا فِی ذَلِکَ بِحَدِیثِ رِفَاعَۃَ بْنِ رَافِعٍ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ-وَقَدْ مَضَی ذِکْرُہُ۔
[حسن۔ أخرجہ ابن أبی شیبۃ ۱۰۵۲]
(٢١٦) (الف) سیدنا ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” جب تم سے کوئی نیند سے بیدار ہو تو اپنے ہاتھ کو برتن میں داخل نہ کرے جب تک کہ انھیں دھولے اس لیے کہ وہ نہیں جانتا کہ اس کے ہاتھ نے رات کہاں گزاری ہے۔ “
(ب) سلیمان کہتے ہیں کہ ابراہیم سے بیان کیا گیا کہ عبداللہ بن مسعود کے اصحاب کہتے ہیں : سیدنا ابوہریرہ (رض) مہر اس میں کیا کرتے تھے ؟ سلیمان نے کہا : جب ان کے ہاتھ صاف ہوتے تو وہ اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔
(ج) امام شافعی (رض) نے حدیث ابن عباس (رض) سے دلیل لی ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب حاجت سے فارغ ہوتے تو کھانے کے لیے وضو نہیں کرتے تھے۔
(د) شیخ کہتے ہیں کہ ہمارے اصحاب نے حدیث رفاعہ بن رافع جو نبی سے مرفوعاً منقول ہے سے دلیل لی ہے، اس کا ذکر پیچھے گزر چکا ہے۔