hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 21508

.

سنن البيهقي

21508
Sunan Al Bayhaqi
(۲۱۵۰۲) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عَمْرِو بْنِ أَبِی الْحَجَّاجِ أَبُو مَعْمَرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ عَنْ حُسَیْنٍ الْمُعَلِّمِ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ : أَنَّ رِئَابَ بْنَ حُذَیْفَۃَ تَزَوَّجَ امْرَأَۃً فَوَلَدَتْ لَہُ ثَلاَثَۃَ غِلْمَۃً فَمَاتَتْ أُمُّہُمْ فَوَرِثُوا رِبَاعَہَا وَوَلاَئَ مَوَالِیہَا وَکَانَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ عَصَبَۃَ بَنِیہَا فَأَخْرَجَہُمْ إِلَی الشَّامِ فَمَاتُوا فَقَدِمَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ وَمَاتَ مَوْلًی لَہَا وَتَرَکَ مَالاً فَخَاصَمَہُ إِخْوَتُہَا إِلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَقَالَ عُمَرُ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : مَا أَحْرَزَ الْوَلَدُ أَوِ الْوَالِدُ فَہُوَ لِعَصَبَتِہِ مَنْ کَانَ ۔ قَالَ : فَکَتَبْتُ لَہُ کِتَابًا فِیہِ شَہَادَۃُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ وَزَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا وَرَجُلٌ آخَرَ فَلَمَّا اسْتُخْلِفَ عَبْدُ الْمَلِکِ اخْتَصَمُوا إِلَی ہِشَامِ بْنِ إِسْمَاعِیلَ أَوْ إِلَی إِسْمَاعِیلَ بْنِ ہِشَامٍ فَرَفَعَہُمْ إِلَی عَبْدِ الْمَلِکِ فَقَالَ ہَذَا مِنَ الْقَضَائِ الَّذِی مَا کُنْتُ أُرَاہُ قَالَ فَقَضَی لَنَا بِکِتَابِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَنَحْنُ فِیہِ إِلَی السَّاعَۃِ۔ (ت) قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ : کَذَا فِی ہَذِہِ الرِّوَایَۃِ وَقَدْ رُوِّینَا عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ وَعُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا أَنَّہُمَا قَالاَ الْوَلاَئُ لِلْکُبْرِ وَمُرْسَلُ ابْنِ الْمُسَیَّبِ عَنْ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَصَحُّ مِنْ رِوَایَۃِ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ وَأَمَّا الْحَدِیثُ الْمَرْفُوعُ فِیہِ فَلَیْسَ فِیہِ أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- قَالَ ذَلِکَ فِی الْوَلاَئِ ۔ [حسن]
(٢١٥٠٢) عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنیدادا سینقل فرماتے ہیں کہ رتاب بن حذیفہ نے ایک عورت سے شادی کی۔ اس کے ہاں تین بچے پیدا ہوئے۔ ان کی والدہ فوت ہوگئی، وہ چاروں اس کے اور غلاموں کی ولاء کے وارث ہوئے اور عمرو بن عاص اس کے بیٹوں کے عصبہ تھے۔ وہ ان کو شام لے کر گئے جہاں وہ فوت ہوگئے۔ عمرو بن عاص آئے تو اس عورت کا غلام بھی فوت ہوگیا۔ اس نے مال چھوڑا۔ اس کے بھائی جھگڑا لے کر عمر بن خطاب (رض) کے پاس آگئے تو حضرت عمر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو بچہ یا باپ مال محفوظ رکھے، وہ اس کے عصبات کے لیے ہے۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے ایک خط لکھا جس میں عبدالرحمن بن عوف، زید بن ثابت اور ایک دوسرے آدمی کی شہادت تھی۔ جب عبدالملک خلیفہ بنا تو انھوں نے اپنا کیس ہشام بن اسماعیل یا اسماعیل بن ہشام کے سامنے رکھا تو وہ کیس عبدالملک کے پاس لے گئے۔ کہنے لگے : یہ فیصلہ ہے جو سمجھ کے مطابق ہے، کہتے ہیں : انھوں نے حضرت عمر (رض) کے خط کے مطابق فیصلہ فرمایا اور آج تک ہم بھی اس پر ہیں۔
(ب) سعید بن مسیب حضرت عمر بن خطاب، عثمان بن عفان (رض) دونوں سے نقل فرماتے ہیں کہ ولاء کا تعلق بڑی عمر سے ہے۔