(۲۱۵۶۲) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی وَأَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَنْبَأَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَنْبَأَنَا الشَّافِعِیُّ أَنْبَأَنَا مَالِکٌ عَنْ أَبِی الرِّجَالِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أُمِّہِ عَمْرَۃَ : أَنَّ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا دَبَّرَتْ جَارِیَۃً لَہَا فَسَحَرَتْہَا فَاعْتَرَفَتْ بِالسِّحْرِ فَأَمَرَتْ بِہَا عَائِشَۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا أَنْ تُبَاعَ مِنَ الأَعْرَابِ مِمَّنْ یُسِیئُ مَمْلَکَتَہَا فَبِیعَتْ۔ [صحیح۔ اخرجہ مالک]
(٢١٥٦٢) ابوررجال محمد بن عبدالرحمن اپنی ماں عمرہ سے اور وہ حضرت عائشہ (رض) سے نقل فرماتی ہیں کہ اس نے ایک لونڈی کو مدبر کیا کہ اس نے جادو کیا اور اعتراف بھی کرلیا تو حضرت عائشہ (رض) نے حکم دیا کہ اس کو کسی دیہاتی کے ہاتھ فروخت کرو۔ جو بری ملکیت والا ہو، یعنی سلوک اچھا نہ کرے تو اس کو فروخت کردیا گیا۔