(۲۱۶۰۹) أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَۃَ أَنْبَأَنَا أَبُو مَنْصُورٍ الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْہَرَوِیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَۃَ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ عَنِ ابْنِ أَبِی نَجِیحٍ عَنْ مُجَاہِدٍ وَطَاوُسٍ فِی قَوْلِہِ {إِنْ عَلِمْتُمْ فِیہِمْ خَیْرًا} [النور ۳۳] قَالَ : مَالاً وَأَمَانَۃً۔قَالَ وَحَدَّثَنَا سَعِیدٌ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ عَنْ یُونُسَ عَنِ الْحَسَنِ قَالَ : صِدْقًا وَوَفَائً أَدَائً وَأَمَانَۃً۔حَدَّثَنَا سَعِیدٌ حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ عَنْ مُغِیرَۃَ عَنْ إِبْرَاہِیمَ قَالَ : صِدْقًا وَوَفَائً ۔ [صحیح]
(٢١٦٠٩) حضرت ابن ابی نجی مجاہد اور طاؤس سے اللہ کے اس قول کے بارے میں فرماتے ہیں : { اِنْ عَلِمْتُمْ فِیْہِمْ خَیْرًا } [النور ٣٣] اس میں خیر سے مراد مال اور امانت ہیں۔
(ب) حضرت یونس حسن سے نقل فرماتے ہیں کہ اس مراد سچائی، پورا پورا ادا کرنا اور امانت ہے۔
(ج) مغیرہ ابراہیم سے نقل فرماتے ہیں کہ اس سے مراد سچائی اور پورا کرنا ہے۔