(۲۱۶۲) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ الضَّبِّیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ یَعْنِی ابْنَ کَثِیرٍ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ حَدَّثَنَا عَاصِمٌ عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَیْشٍ قَالَ قِیلَ لِرَجُلٍ: سَلْ عَلِیًّا عَنْ صَلاَۃِ الْوُسْطَی۔
فَسَأَلَہُ فَقَالَ: کُنَّا نَرَی أَنَّہَا صَلاَۃُ الْفَجْرِ حَتَّی سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَوْمَ الأَحْزَابِ یَقُولُ: ((شَغَلُونَا عَنْ صَلاَۃِ الْوُسْطَی الْعَصْرِ حَتَّی غَابَتِ الشَّمْسُ مَلأَ اللَّہُ قُبُورَہُمْ وَأَجْوَافَہُمْ نَارًا)) ۔
[صحیح۔ مضٰی فی الذی قبلہ وہو حدیث صحیح من و غیروجہ]
(٢١٦٢) زر بن حبیش سے روایت ہے کہ ایک آدمی سے کہا گیا کہ حضرت علی (رض) سے درمیانی نماز کے بارے میں پوچھو۔ اس نے آپ (رض) سے اس بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا : ہم اس کو فجر کی نماز خیال کیا کرتے تھے حتیٰ کہ میں نے غزوہ احزاب کے دن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے سنا کہ ان مشرکوں نے ہمیں درمیانی نماز یعنی عصر کی نماز سے غافل کردیا حتیٰ کہ سورج بھی غروب ہوگیا، اللہ ان کی قبروں اور پیٹوں کو آگ سے بھر دے۔