(۲۱۶۹۰) أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَۃَ أَنْبَأَنَا أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ وَأَبُو الْحَسَنِ السَّرَّاجُ قَالاَ أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یَحْیَی بْنِ سُلَیْمَانَ الْمَرْوَزِیُّ حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ عَلِیٍّ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ قَالَ قَتَادَۃُ أَخْبَرَنِی قَالَ قُلْتُ لِسَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ إِنَّ شُرَیْحًا کَانَ یَقُولُ یُبْدَأُ بِالْمُکَاتَبَۃِ قَبْلَ الدَّیْنِ أَوْ یُشْرَکُ بَیْنَہُمَا شَکَّ شُعْبَۃُ۔ فَقَالَ ابْنُ الْمُسَیَّبِ : أَخْطَأَ شُرَیْحٌ وَإِنْ کَانَ قَاضِیًا قَالَ زَیْدُ بْنُ ثَابِتٍ یُبْدَأُ بِالدَّیْنِ
قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ وَقَدْ رُوِیَ عَنْ شُرَیْحٍ أَنَّہُ قَالَ یُبْدَأُ بِالدَّیْنِ۔ [حسن]
(٢١٦٩٠) سعید بن مسیب کہتے ہیں کہ قاضی شریح (رح) نے فرمایا : پہلے کتابت پھر قرض ادا کیا جائے یا دونوں کو اکٹھا۔ شعبہ کو شک ہے، ابن مسیب فرماتے ہیں کہ قاضی شریح نے غلطی کی۔ زید بن ثابت فرماتے ہیں : قرض سے ابتدا کی جائے گی۔
شیخ (رح) فرماتے ہیں کہ قاضی شریح قرض کی ادائیگی میں مبتلا کرتے تھے۔