(۲۱۷۲۲) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ فِی آخَرِینَ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَنْبَأَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَنْبَأَنَا الشَّافِعِیُّ أَنْبَأَنَا مَالِکٌ حَدَّثَنِی یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ عَنْ عَمْرَۃَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ : أَنَّ بَرِیرَۃَ جَائَ تْ تَسْتَعِینُ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا فَقَالَتْ عَائِشَۃُ إِنْ أَحَبَّ أَہْلُکِ أَنْ أَصُبَّ لَہُمْ ثَمَنَکِ صَبَّۃً وَاحِدَۃً وَأُعْتِقَکِ فَعَلْتُ فَذَکَرَتْ ذَلِکَ بَرِیرَۃُ لأَہْلِہَا فَقَالُوا لاَ إِلاَّ أَنْ یَکُونَ وَلاَؤُکِ لَنَا قَالَ مَالِکٌ قَالَ یَحْیَی فَزَعَمَتْ عَمْرَۃُ أَنَّ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا ذَکَرَتْ ذَلِکَ لِرَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ : لاَ یَمْنَعُکِ ذَلِکَ اشْتَرِیہَا وَأَعْتِقِیہَا فَإِنَّمَا الْوَلائُ لِمَنْ أَعْتَقَ ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ یُوسُفَ عَنْ مَالِکٍ أَرْسَلَہُ مَالِکٌ فِی أَکْثَرِ الرِّوَایَاتِ عَنْہُ۔
[صحیح۔ متفق علیہ]
(٢١٧٢٢) عمرہ بنت عبدالرحمن فرماتی ہیں کہ بریرہ (رض) حضرت عائشہ (رض) سے مدد طلب کرنے کے لیے آئی۔ حضرت عائشہ (رض) نے فرمایا : اگر تیرے گھر والے پسند کریں تو میں ایک بار ساری قیمت ادا کر کے تجھے آزاد کردیتی ہوں تو بریرہ (رض) نے اپنے گھر والوں سے بات کی۔ انھوں نے کہا : اگر ولاء ہمارے لیے ہوگی تو پھر درست ہے یحییٰ کہتے ہیں : عمرۃ بنت عبدالرحمن کا خیال ہے کہ حضرت عائشہ (رض) نے یہ بات رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے کی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کوئی چیز رکاوٹ نہ بنے خریدو اور آزاد کرو۔ ولاء آزاد کرنے والے کی ہوتی ہے۔