(۲۱۷۳۱) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ أَنْبَأَنَا الرَّبِیعُ أَنْبَأَنَا الشَّافِعِیُّ قَالَ أَحْسِبُ حَدِیثَ نَافِعٍ أَثْبَتَہَا کُلَّہَا لأَنَّہُ مُسْنَدٌ وَأَنَّہُ أَشْبَہُ وَکَأَنَّ عَائِشَۃَ فِی حَدِیثِ نَافِعٍ کَانَتْ شَرَطَتْ لَہُمُ الْوَلاَئَ فَأَعْلَمَہَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- أَنَّہَا إِنْ أَعْتَقَتْ فَالْوَلاَئُ لَہَا فَإِنْ کَانَ ہَکَذَا فَلَیْسَ أَنَّہَا شَرَطَتْ لَہُمُ الْوَلاَئَ بِأَمْرِ النَّبِیِّ -ﷺ- وَلَعَلَّ ہِشَامًا أَوْ عُرْوَۃَ حِینَ سَمِعَ أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- قَالَ لاَ یَمْنَعُکِ ذَلِکَ رَأَی أَنَّہُ أَمَرَہَا أَنْ تَشْتَرِطَ لَہُمُ الْوَلاَئَ فَلَمْ یَقِفْ مِنْ حَفِظِہِ عَلَی مَا وَقَفَ ابْنُ عُمَرَ وَاللَّہُ أَعْلَمُ قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ وَلِمَعْنَی حَدِیثِ ابْنِ عُمَرَ شَوَاہِدُ۔ [صحیح]
(٢١٧٣١) امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ نافع کی حدیث زیادہ ثابت ہے، کیونکہ یہ مسند ہے، نافع کی حدیث میں ہے کہ حضرت عائشہ (رض) نے ان کے لیے ولاء کی شرط رکھی تھی۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے کہنے پر۔ کیونکہ ولاء تو آزاد کرنے والے کے لیے ہوتی ہے، حالانکہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے کہنے پر ولاء کی شرط نہ رکھی تھی۔ شاید کہ ہشام یا عروہ نے قول نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کہ کوئی چیز تجھے نہ روکے سے سمجھ لیا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے لیے ولاء کی شرط رکھی ہے۔ اس کے حافظ کا اتنا اعتبار نہیں جتنا ابن عمر کے۔