(۲۱۷۷۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دُرُسْتُوَیْہِ الْفَارِسِیُّ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ الْفَارِسِیُّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَعْلَی بْنِ الْحَارِثِ حَدَّثَنَا أَبِی حَدَّثَنَا غَیْلاَنُ بْنُ جَامِعٍ عَنْ إِبْرَاہِیمَ بْنِ حَرْبٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ بُرَیْدَۃَ عَنْ أَبِیہِ قَالَ : کُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ إِذْ سَمِعَ صَائِحَۃً فَقَالَ یَا یَرْفَأُ انْظُرْ مَا ہَذَا الصَوْتُ؟ فَانْطَلَقَ فَنَظَرَ ثُمَّ جَائَ فَقَالَ جَارِیَۃٌ مِنْ قُرَیْشٍ تُبَاعُ أُمُّہَا قَالَ فَقَالَ عُمَرُ ادْعُ أَوْ قَالَ عَلَیَّ بِالْمُہَاجِرِینَ وَالأَنْصَارِ قَالَ فَلَمْ یَمْکُثْ إِلاَّ سَاعَۃً حَتَّی امْتَلأَتِ الدَّارُ وَالْحُجْرَۃُ قَالَ فَحَمِدَ اللَّہَ عُمَرُ وَأَثْنَی عَلَیْہِ ثُمَّ قَالَ أَمَّا بَعْدُ فَہَلْ تَعْلَمُونَہُ کَانَ مِمَّا جَائَ بِہِ مُحَمَّدٌ -ﷺ- الْقَطِیعَۃُ؟ قَالُوا لاَ قَالَ فَإِنَّہَا قَدْ أَصْبَحَتْ فِیکُمْ فَاشِیَۃٌ ثُمَّ قَرَأَ {ہَلْ عَسَیْتُمْ إِنْ تَوَلَّیْتُمْ أَنْ تُفْسِدُوا فِی الأَرْضِ وَتُقَطِّعُوا أَرْحَامَکُمْ} [محمد ۲۲] ثُمَّ قَالَ وَأَیُّ قَطِیعَۃٍ أَفْظَعُ مِنْ أَنْ تُبَاعَ أُمُّ امْرِئٍ مِنْکُمْ وَقَدْ أَوْسَعَ اللَّہُ لَکُمْ؟ قَالُوا فَاصْنَعْ مَا بَدَا لَکَ أَوْ مَا شِئْتَ قَالَ فَکَتَبَ فِی الآفَاقِ أَنْ لاَ تُبَاعُ أُمُّ حُرٍّ فَإِنَّہُ قَطِیعَۃٌ وَأَنَّہُ لاَ یَحِلُّ۔ [حسن]
(٢١٧٧٣) عبداللہ بن بریرہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ میں عمر بن خطاب (رض) کے پاس بیٹھا ہوا تھا، اچانک اس نے ایک چیخ سنی، کہنے لگے : اے یرفئا ! دیکھو یہ آواز کیسی ہے ؟ وہ دیکھ کر آئے اور کہنے لگے کہ ایک لونڈی کی والدہ کو فروخت کیا جا رہا ہے۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : بلاؤیا فرمایا : مہاجرین و انصار کو بلاؤ، تھوڑی دیر میں گھر اور حجرہ بھر گیا، تو حضرت عمر (رض) نے اللہ کی حمدوثنا بیان کی، پھر فرمایا : کیا تم جانتے جو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قطع رحمی کے متعلق لائے ہیں ؟ انھوں نے کہا : نہیں۔ حالانکہ وہ تمہارے معاشرہ میں عام ہوچکی ہے۔ پھر یہ آیت تلاوت کی : { فَہَلْ عَسَیْتُمْ اِنْ تَوَلَّیْتُمْ اَنْ تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ وَتُقَطِّعُوْا اَرْحَامَکُمْ } [محمد ٢٢] ” عنقریب اگر تم پھرگئے کہ تم زمین میں فساد کرو اور اپنی رشتہ داریوں کو کاٹو۔ “
پھر فرمایا : اس سے بڑی قطع رحمی کیا ہے کہ تم ام ولد کو فروخت کرنا شروع کر دو ۔ حالانکہ اللہ نے تمہارے اوپر وسعت کی ہے، لوگوں نے کہا : جو چاہو فیصلہ کرو تو انھوں نے خط لکھوا دیے کہ ام ولد کو فروخت نہ کیا جائے۔ یہ قطع رحمی ہے اور جائز نہیں ہے۔