hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 21781

.

سنن البيهقي

21781
Sunan Al Bayhaqi
(۲۱۷۷۵) أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَنْبَأَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ الضَّبِّیُّ حَدَّثَنَا ہُدْبَۃُ حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ الْفَضْلِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِیَادٍ قَالَ : کَانَتْ جَدَّتِی أُمُّ وَلَدٍ لِعُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ فَأَرَادَ ابْنٌ لِعُثْمَانَ أَنْ یَبِیعَہَا بَعْدَ مَوْتِ أَبِیہِ وَإِنَّہَا أَتَتْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا فَقَالَتْ : یَا أُمَّ الْمُؤْمِنِینَ إِنَّ ابْنَ عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ أَرَادَ أَنْ یَبِیعَنِی وَقَدْ کُنْتُ وَلَدْتُ لأَبِیہِ فَلَوْ کَلَّمْتِیہِ فَوَضَعَنِی مَوْضِعًا صَالِحًا فَقَالَتْ لَہَا عَائِشَۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا أَوَلَدْتِ لأَبِیہِ؟ قَالَتْ نَعَمْ قَالَتْ فَائْتِی أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یُعْتِقُکِ فَأَتَتْ عُمَرَ فَأَخْبَرَتْہُ أَنَّہَا وَلَدَتْ مِنْ عُثْمَانَ وَأَنَّ ابْنَہُ یُرِیدُ بَیْعَہَا فَأَرْسَلَ عُمَرُ إِلَی ابْنِ عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ فَقَالَ أَرَدْتَ ذَلِکَ قَالَ نَعَمْ قَالَ لَیْسَ ذَاکَ لَکَ أَظُنُّہُ قَالَ فَہِیَ حُرَّۃٌ قَالَتْ جَدَّتِی یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ مَا أَعْتَقَنِی؟ قَالَ وَلَدُکِ مِنْ عُثْمَانَ قَالَتْ فَإِنَّہُ قَدْ جَرَحَنِی ہَذَا الْجِرَاحَ بَعْدَ مَوْتِ أَبِیہِ فَقَالَ لَہُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّاب رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَعْطِہَا أَرْشَ مَا صَنَعْتَ بِہَا۔ [ضعیف]
(٢١٧٧٥) محمد بن زیاد فرماتے ہیں کہ میری دادی عثمان بن مظعون کی ام ولد تھی تو عثمان بن مظعون کی وفات کے بعد اس کے بیٹے نے فروخت کرنا چاہا۔ وہ حضرت عائشہ (رض) کے پاس آئیں کہ عثمان بن مظعون کا بیٹا مجھے فروخت کرنا چاہتا ہے حالانکہ اس کے باپ کی اولاد مجھ سے ہے، اگر آپ ان سے بات کریں تو وہ مجھے درست جگہ رکھیں تو حضرت عائشہ (رض) نے فرمایا : کیا تو نے اس کے باپ کی اولاد کو جنم دیا ہے ؟ کہتی ہیں : ہاں۔ کہنے لگی : آپ امیرالمومنین حضرت عمر (رض) کے پاس جاؤ وہ تمہیں آزاد کردیں گے۔ وہ حضرت عمر (رض) کے پاس آئیں اور خبر دی کہ عثمان کی اولاد مجھ سے ہے اور اس کا بیٹا مجھے فروخت کرنا چاہتا ہے تو حضرت عمر (رض) نے عثمان بن مظعون کے بیٹے کو پیغام دیا : کیا آپ کا یہی ارادہ ہے ؟ اس نے کہا : ہاں۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : تمہارے لیے یہ جائز نہیں۔ یہ آزاد ہے، میری دادی نے پوچھا : مجھے کس نے آزاد کیا ؟ فرمایا : تیری اولاد نے جو عثمان سے ہے، کہنے لگی : اس نے اپنے باپ کی وفات کے بعد میرے اوپر جرح کی ہے تو حضرت عمر (رض) نے فرمایا : اس کا تاوان دو جو آپ نے اس کے ساتھ سلوک کیا ہے۔