hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 21783

.

سنن البيهقي

21783
Sunan Al Bayhaqi
(۲۱۷۷۷) مِنْہَا مَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِیُّ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الرَّازِیُّ خَتَنُ سَلَمَۃَ بْنِ الْفَضْلِ حَدَّثَنَا سَلَمَۃُ حَدَّثَنِی مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ عَنِ الْخَطَّابِ بْنِ صَالِحٍ عَنْ أُمِّہِ قَالَتْ حَدَّثَتْنِی سَلاَمَۃُ بِنْتُ مَعْقِلٍ قَالَتْ : کُنْتُ لِلْحُبَابِ بْنِ عَمْرٍو فَمَاتَ وَلِی مِنْہُ غُلاَمٌ فَقَالَتِ امْرَأَتُہُ الآنَ تُبَاعِینَ فِی دَیْنِہِ فَأَتَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- فَذَکَرْتُ ذَلِکَ لَہُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- مَنْ صَاحِبُ تَرِکَۃِ الْحُبَابِ بْنِ عَمْرٍو؟ فَقَالُوا أَخُوہُ أَبُو الْیَسَرِ کَعْبُ بْنُ عَمْرٍو فَدَعَاہُ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ لاَ تَبِیعُوہَا وَأَعْتِقُوہَا فَإِذَا سَمِعْتُمْ بِرَقِیقٍ قَدْ جَائَ نِی فَائْتُونِی أُعَوِّضْکُمْ مِنْہَا فَفَعَلُوا وَاخْتَلَفُوا فِیمَا بَیْنَہُمْ بَعْدَ وَفَاۃِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ قَوْمٌ إِنَّ أُمَّ الْوَلَدِ مَمْلُوکَۃٌ لَوْلاَ ذَلِکَ لَمْ یُعَوِّضْہُمْ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- مِنْہَا وَقَالَ بَعْضُہُمْ بَلْ ہِیَ حُرَّۃٌ قَدْ أَعْتَقَہَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَفِی ذَا کَانَ الاِخْتِلاَفُ۔ أَخْرَجَہُ أَبُو دَاوُدَ فِی کِتَابِ السُّنَنِ عَنِ النُّفَیْلِیِّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَمَۃَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ بِمَعْنَاہُ دُونَ مَا فِی آخِرِہِ مِنَ الاِخْتِلاَفِ۔ [ضعیف]
(٢١٧٧٧) سلامۃ بنت معقل فرماتی ہیں کہ میں حباب بن عمرو کی لونڈی تھی، وہ فوت ہوگئے، اس کا ایک بچہ بھی تھا۔ اس کی بیوی نے کہا : اس کے قرض میں تجھے فروخت کیا جائے گا۔ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے اس کا تذکرہ کیا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : حباب بن عمرو کے ترکہ کا وارث کون ہے ؟ انھوں نے کہا : اس کا بھائی ابو الیسر کعب بن عمرو تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو بلایا اور فرمایا : اس کو آزاد کر دو ، فروخت نہ کرنا۔ جب تم غلام کے بارے میں سنو تو میرے پاس لاؤ۔ میں تمہیں معاوضہ دوں گا۔ انھوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات کے بعد اختلاف کیا۔ کہتے ہیں کہ ام ولد لونڈی ہے ، اس کا معاوضہ کون دے گا، بعض نے کہا : یہ آزاد ہے کیونکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو آزاد کردیا۔