(۲۱۷۸۷) وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَۃَ أَنْبَأَنَا أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَۃَ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ حَدَّثَنِی الْحَکَمُ بْنُ أَبَانَ قَالَ : سُئِلَ عِکْرِمَۃُ عَنْ أُمَّہَاتِ الأَوْلاَدِ قَالَ : ہُنَّ أَحْرَارٌ قَالُوا لَہُ بِأَیِّ شَیْئٍ تَقُولُہُ؟ قَالَ : بِالْقُرْآنِ۔ قَالُوا بِمَاذَا مِنَ الْقُرْآنِ؟ قَالَ قَوْلُ اللَّہِ تَعَالَی {یٰٓأَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اَطِیْعُوا اللّٰہَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَ اُولِی الْاَمْرِ مِنْکُمْ} [النساء ۵۹] وَکَانَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ مِنْ أُولِی الأَمْرِ قَالَ عَتَقَتْ وَإِنْ کَانَ سِقْطًا۔
وَرُوِیَ عَنِ الْحَکَمِ بْنِ أَبَانَ عَنْ عِکْرِمَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- : أُمُّ الْوَلَدِ حُرَّۃٌ وَإِنْ کَانَ سِقَطًا ۔ وَہُوَ ضَعِیفٌ۔ الصَّحِیحُ حَدِیثُ سَعِیدِ بْنِ مَسْرُوقٍ الثَّوْرِیِّ عَنْ عِکْرِمَۃَ عَنْ عُمَرَ وَحَدِیثُ سُفْیَانَ عَنِ الْحَکَمِ عَنْ عِکْرِمَۃَ عَنْ عُمَرَ وَاللَّہُ أَعْلَمُ وَقَدْ یُحْتَمَلُ أَنْ یَکُونَ لِرِوَایَۃِ قِصَّۃِ مَارِیَۃَ أَصْلاً وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [صحیح]
(٢١٧٨٧) حکم بن ابان فرماتے ہیں کہ حضرت عکرمہ سے امہات الاولاد کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا : وہ آزاد ہیں، انھوں نے کہا : آپ کیوں یہ بات کہتے ہیں ؟ فرمایا : قرآن کی وجہ سے۔ انھوں نے کہا : قرآن میں کیا ہے ؟ انھوں نے کہا : { یٰٓأَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اَطِیْعُوا اللّٰہَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَ اُولِی الْاَمْرِ مِنْکُمْ } [النساء ٥٩] اللہ اور رسول کی اطاعت کرو اور حکمرانوں کی۔ حضرت عمر بھی اولوالامر میں سے تھے۔ فرماتے ہیں : وہ آزاد ہوگی اگرچہ بچہ مردہ بھی ہو۔
(ب) ابن عباس (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل فرماتے ہیں کہ ام الولد آزاد ہے اگرچہ بچہ مردہ ہی کیوں نہ ہو۔