(۲۲۰۲) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِیدِ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِیرِیُّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ أَبِی سُلَیْمَانَ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ جُبَیْرٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یُصَلِّی وَہُوَ مُقْبِلٌ مَنْ مَکَّۃَ إِلَی الْمَدِینَۃِ عَلَی رَاحِلَتِہِ حَیْثُ کَانَ وَجْہُہُ قَالَ وَفِیہِ نَزَلَتْ {فَأَیْنَمَا تُوَلُّوا فَثَمَّ وَجْہُ اللَّہِ} [البقرۃ: ۱۱۵]
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ الْقَوَارِیرِیِّ۔ [صحیح۔ اخرجہ مسلم ۷۰۰]
(٢٢٠٢) حضرت ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی سواری پر بیٹھے مکہ سے مدینہ کی طرف آرہے تھے اور (نفل) نماز ادا کر رہے تھے ، جدھر بھی آپ کا رخ ہوتا برابر نماز پڑھتے رہتے۔ ابن عمر (رض) فرماتے ہیں یہ آیت کریمہ اسی بارے میں نازل ہوئی :{ فَاَیْنَمَا تُوَلُّوْا فَثَمَّ وَجْہُ اللّٰہِ } (البقرۃ : ١١٥) ” جدھر بھی منہ کرلو ادھر اللہ کا چہرہ ہے۔ “