hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 2244

.

سنن البيهقي

2244
Sunan Al Bayhaqi
(۲۲۴۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ: عَلِیُّ بْنُ الْحُسَیْنِ الرُّصَافِیُّ بِبَغْدَادَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَارِثِ الْعَسْکَرِیُّ حَدَّثَنِی أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ الْحَسَنِ الْعَنْبَرِیُّ قَالَ وَجَدْتَ فِی کِتَابِ أَبِی حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ أَبِی سُلَیْمَانَ الْعَرْزَمِیُّ عَنْ عَطَائِ بْنِ أَبِی رَبَاحٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- سَرِیَّۃً کُنْتُ فِیہَا ، فَأَصَابَتْنَا ظُلْمَۃٌ فَلَمْ نَعْرِفِ الْقِبْلَۃَ ، فَقَالَتْ طَائِفَۃٌ مِنْہَا: الْقِبْلَۃُ ہَا ہُنَا قِبَلَ الشَّمَالِ۔ فَصَلَّوْا وَخَطُّوا خَطًّا ، وَقَالَ بَعْضُنَا: الْقِبْلَۃُ ہَا ہُنَا قِبَلَ الْجَنُوبِ وَخَطُّوا خَطًّا ، فَلَمَّا أَصْبَحْنَا وَطَلَعَتِ الشَّمْسُ أَصْبَحَتْ تِلْکَ الْخُطُوطُ لِغَیْرِ الْقِبْلَۃِ ، فَقَدِمْنَا مِنْ سَفَرِنَا فَأَتَیْنَا النَّبِیَّ -ﷺ- فَسَأَلْنَاہُ عَنْ ذَلِکَ ، فَسَکَتَ ، وَأَنْزَلَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ {وَلِلَّہِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ فَأَیْنَمَا تُوَلُّوا فَثَمَّ وَجْہُ اللَّہِ} [البقرۃ: ۱۱۵] أَیْ حَیْثُ کُنْتُمْ۔ وَکَذَلِکَ رَوَاہُ الْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ شَبِیبٍ الْمَعْمَرِیُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سُلَیْمَانَ الْبَاغَنْدِیُّ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ عُبَیْدِ اللَّہِ ، وَلاَ نَعْلَمُ لِہَذَا الْحَدِیثِ إِسْنَادًا صَحِیحًا قَوِیًّا۔ وَذَلِکَ لأَنَّ عَاصِمَ بْنَ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ الْعُمَرِیَّ وَمُحَمَّدَ بْنَ عُبَیْدِ اللَّہِ الْعَرْزَمِیَّ وَمُحَمَّدَ بْنَ سَالِمٍ الْکُوفِیَّ کُلَّہُمْ ضُعَفَائُ ۔ وَالطَّرِیقُ إِلَی عَبْدِ الْمَلِکِ الْعَرْزَمِیِّ غَیْرُ وَاضِحٍ لِمَا فِیہِ مِنَ الْوِجَادَۃِ وَغَیْرِہَا ، وَفِی حَدِیثِہِ أَیْضًا نُزُولِ الآیَۃِ فِی ذَلِکَ۔ وَصَحِیحٌ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ أَبِی سُلَیْمَانَ الْعَرْزَمِیِّ عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابَ: أَنَّ الآیَۃَ إِنَّمَا نَزَلَتْ فِی التَّطَوُّعِ خَاصَّۃً حَیْثُ تَوَجَّہَ بِکَ بَعِیرُکُ۔ وَقَدْ مَضَی ذِکْرُہُ۔ [ضعیف]
(٢٢٤٣) (ا) سیدنا جابر بن عبداللہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے چند لوگوں کو جہاد کے لیے بھیجا۔ میں بھی ان میں تھا۔ موسم خراب ہونے کی وجہ سے ہمارے لیے سمت قبلہ کی پہچان مشکل ہوگئی۔ کچھ لوگوں نے شمال کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ قبلہ ادھر ہے۔ انھوں نے ادھر ہی نماز پڑھی اور خط کھینچ لیا اور بعض نے کہا کہ قبلہ جنوب کی طرف ہے۔ انھوں نے بھی اسی طرف نماز پڑھی اور خط کھینچ لیا۔ جب صبح ہوئی اور سورج طلوع ہوگیا تو وہ لکیریں غیر قبلہ کی طرف تھیں۔ جب ہم سفر سے واپس آئے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اس بارے میں پوچھا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خاموش ہوگئے۔ پھر یہ آیت کریمہ نازل کی : { وَ لِلّٰہِ الْمَشْرِقُ وَ الْمَغْرِبُ فَاَیْنَمَا تُوَلُّوْا فَثَمَّ وَجْہُ اللّٰہِ } (البقرۃ : ١١٥) ” مشرق ومغرب اللہ ہی کے لیے ہیں۔ جدھر بھی پھر جاؤ وہیں اللہ کی ذات ہے۔ “ یعنی جہاں بھی ہو، جدھر بھی ہو۔
(ب) صحیح وہ ہے جو حضرت عبداللہ بن عمر بن خطاب (رض) سے منقول ہے کہ یہ آیت خاص طور پر نفل نماز کے بارے میں نازل ہوئی ہے کہ نفل نماز میں تمہاری سواری کا رخ جدھر بھی ہو درست ہے اور اس کا ذکر گزر چکا ہے۔