(۲۲۴۸) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ: عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یُوسُفَ الرَّفَائُ حَدَّثَنَا أَبُو عَمْرٍو: عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِی حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ أَبِی أُوَیْسٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِی الزِّنَادِ عَنْ أَبِیہِ عَنِ الْفُقَہَائِ مِنْ أَہْلِ الْمَدِینَۃِ أَنَّہُمْ کَانُوا یَقُولُونَ: مَنْ صَلَّی عَلَی غَیْرِ طُہْرٍ أَوْ عَلَی غَیْرِ قِبْلَۃٍ أَعَادَ الصَّلاَۃَ کَانَ فِی الْوَقْتِ أَوْ غَیْرِ الْوَقْتِ إِلاَّ أَنْ یَکُونَ خَطَؤُہُ الْقِبْلَۃَ تَحَرُّفًا أَوْ شَیْئًا یَسِیرًا۔
وَرُوِّینَا عَنْ إِبْرَاہِیمَ النَّخَعِیِّ أَنَّہُ قَالَ فِی الَّذِی یُصَلِّی لِغَیْرِالْقِبْلَۃِ لاَ یُعِیدُ۔ [ضعیف]
(٢٢٤٨) (ا) عبدالرحمن بن ابو زناد اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ فقہاء مدینہ کا یہ قول ہے کہ جو شخص بےوضو یا غیر قبلہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھے تو اس کو نماز لوٹانا ہوگی چاہے وقت کے اندر ہو یا وقت گذر چکا ہو۔ البتہ اگر اس کے پاؤں قبلے سے منحرف ہوں یا وہ خود تھوڑا سا منحرف ہو تو گنجائش ہے۔
(ب) ابراہیم نخعی سے منقول ہے کہ انھوں نے اس شخص کے بارے میں فرمایا جو غیر قبلہ کی طرف نماز ادا کرے کہ وہ نماز نہ لوٹائے۔