(۲۲۵۴) أَخْبَرَنَا أَبُوعَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو عَبْدِالرَّحْمَنِ السُّلَمِیُّ وَأَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی وَأَبُوالْقَاسِمِ: عَبْدُالرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ السَّرَاجُ قَالُوا أَخْبَرَنَا أَبُوعَبْدِاللَّہِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ الشَّیْبَانِیُّ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ السَّعْدِیُّ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ أَخْبَرَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاہِیمَ التَّیْمِیُّ أَنَّہُ سَمِعَ عَلْقَمَۃَ بْنَ وَقَّاصٍ یَقُولُ سَمِعْتُ عُمَرَ یَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ: ((إِنَّمَا الأَعْمَالُ بِالنِّیَّۃِ ، وَإِنَّمَا لاِمْرِئٍ مَا نَوَی ، فَمَنْ کَانَتْ ہِجْرَتُہُ إِلَی اللَّہِ وَإِلَی رَسُولِہِ فَہِجْرَتُہُ إِلَی اللَّہِ وَإِلَی رَسُولِہِ، وَمَنْ کَانَتْ ہِجْرَتُہُ إِلَی دُنْیَا یُصِیبُہَا أَوِ امْرَأَۃٍ یَتَزَوَّجُہَا فَہِجْرَتُہُ إِلَی مَا ہَاجَرَ إِلَیْہِ))۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنِ ابْنِ نُمَیْرٍ عَنْ یَزِیدَ بْنِ ہَارُونَ، وَأَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ مِنْ أَوْجُہٍ أُخَرَ عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری۱]
(٢٢٥٤) علقمہ بن وقاص فرماتے ہیں کہ میں سیدنا عمر (رض) کو فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اعمال کا دارومدار نیت پر ہے اور آدمی کو وہی ملے گا جس کی اس نے نیت کی۔ لہٰذا جس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہوگی تو اس کو اس کے مطابق ثواب ملے گا اور جس کی ہجرت دنیا کی غرض سے ہوئی کہ وہ اس کو مل جائے یا عورت کی خاطر ہوئی کہ وہ اس سے نکاح کرلے تو اس کی ہجرت اسی کام کے لیے شمار ہوگی۔