(۲۲۵۶) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُوبَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ قُتَیْبَۃَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی أَخْبَرَنَا فُضَیْلُ بْنُ عِیَاضٍ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاہِیمَ عَنْ عَلْقَمَۃَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ قَالَ: صَلَّی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- صَلاَۃً فَزَادَ فِیہَا أَوْ نَقَصَ ، فَلَمَّا قَضَی الصَّلاَۃَ قَالُوا: یَا رَسُولَ اللَّہِ ہَلْ حَدَثَ فِی الصَّلاَۃِ شَیْء ٌ؟ قَالَ: ((وَمَا ذَاکَ؟))۔ قَالَ: فَذَکَرْنَا الَّذِی فَعَلَ، فَثَنَی رِجْلَہُ ثُمَّ اسْتَقْبِلَ الْقِبْلَۃَ فَسَجَدَ سَجْدَتَیْنِ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَیْنَا بِوَجْہِہِ فَقَالَ: ((لَوْ حَدَثَ فِی الصَّلاَۃِ شَیْء ٌ لأَنْبَأْتُکُمْ ، وَإِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ أَنْسَی کَمَا تَنْسَوْنَ، فَإِذَا نَسِیتُ فَذَکِّرُونِی، وَأَیُّکُمْ مَا نَسِیَ فِی صَلاَتِہِ فَلْیَتَحَرَّ الَّذِی یَرَی أَنَّہُ الصَّوَابُ، فَلْیُتِمَّ عَلَیْہِ ثُمَّ یَسْجُدْ سَجْدَتَیِ السَّہْوِ))۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی وَأَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ مَنْصُورٍ۔
[صحیح۔ اخرجہ البخاری ۳۹۲]
(٢٢٥٦) حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نماز پڑھائی تو اس میں کوئی کمی و زیادتی کی ۔ جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو صحابہ (رض) نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ! کیا نماز میں کوئی نیا حکم نازل ہوا ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : کیا ہوا ؟ عبداللہ بن مسعود کہتے ہیں : ہم نے آپ کو نماز والی بات یاد دلائی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی ٹانگ موڑی اور قبلہ رخ ہو کر دو سجدے کیے۔ پھر ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا : اگر نماز میں کوئی نیا حکم آجاتا تو میں ضرور تمہیں بتا دیتا۔ میں بھی انسان ہوں۔ بھول جاتا ہوں جیسے تم بھول جاتے ہو۔ لہٰذا جب میں بھول جایا کروں تو مجھے یاد دلا دیا کرو اور تم میں سے جو بھی اپنی نماز میں بھول جائے تو وہ غور کرے ، پھر جس کو درست سمجھے تو اسی کے مطابق نماز مکمل کرے، پھر سہو کے دو سجدے ادا کرلے۔