(۲۲۷۶) أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ: طَلْحَۃُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ الصَّقَرِ وَأَبُو عَبْدِ اللَّہِ: مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِی طَاہِرٍ الدَّقَّاقُ بِبَغْدَادَ قَالاَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ یَحْیَی الأَدَمِیُّ حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَاتِمٍ الدُّورِیُّ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا فُلَیْحٌ عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْحَارِثِ قَالَ: اشْتَکَی أَبُو ہُرَیْرَۃَ أَوْ غَابَ فَصَلَّی أَبُو سَعِیدٍ الْخُدْرِیُّ ، فَجَہَرَ بِالتَّکْبِیرِ حِینَ افْتَتَحَ وَحِینَ رَکَعَ ، وَبَعْدَ أَنْ قَالَ سَمِعَ اللَّہُ لِمَنْ حَمِدَہُ ، وَحِینَ رَفَعَ رَأْسَہُ مِنَ السُّجُودِ ، وَحِینَ سَجَدَ ، وَحِینَ رَفَعَ ، وَحِینَ قَامَ مِنَ الرَّکْعَتَیْنِ حَتَّی قَضَی صَلاَتَہُ عَلَی ذَلِکَ ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قِیلَ لَہُ: قَدِ اخْتَلَفَ النَّاسُ عَلَی صَلاَتِکِ۔ فَخَرَجَ حَتَّی قَامَ عِنْدَ الْمِنْبَرِ فَقَالَ: أَیُّہَا النَّاسُ إِنِّی وَاللَّہِ مَا أُبَالِی اخْتَلَفَتْ صَلاَتُکُمْ أَوْ لَمْ تَخْتَلِفْ ، إِنِّی رَأَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- ہَکَذَا یُصَلِّی۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ صَالِحٍ عَنْ فُلَیْحِ بْنِ سُلَیْمَانَ۔
وَرُوِّینَا عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ: أَنَّہُ کَانَ یَؤُمُّ النَّاسَ فَیَرْفَعُ صَوْتَہُ بِالتَّکْبِیرِ۔
[صحیح۔ اخرجہ البخاری ۷۹۱]
(٢٢٧٦) (ا) سعید بن حارث سے روایت ہے کہ حضرت ابوہریرہ (رض) بیمار ہوگئے یا فرمایا کہ کہیں گئے ہوئے تھے تو ابوسعید خدری (رض) نے نماز پڑھائی۔ جب انھوں نے نماز شروع کی تو اونچی تکبیر کہی اور (اسی طرح) رکوع میں جاتے ہوئے بھی تکبیر کہی۔ پھر رکوع سے اٹھتے ہوئے سمع اللہ لمن حمدہ کہا اور جب سجدے سے سر اٹھایا تب بھی اونچی تکبیر کہی اور جب دو رکعتوں کے بعد کھڑے ہوئے تب بھی تکبیر کہی حتیٰ کہ اسی طرح نماز مکمل کی۔ جب انھوں نے نماز سے سلام پھیرا تو کسی نے آپ سے کہا کہ لوگوں نے آپ کی نماز پر اعتراض کیا ہے تو آپ (رض) نکلے حتیٰ کہ منبر پر کھڑے ہوگئے اور فرمایا : اے لوگو ! اللہ کی قسم ! میرا خیال نہیں کہ تمہاری نماز ہوئی یا نہیں، لیکن میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اسی طرح نماز پڑھتے دیکھا ہے۔
(ب) عمر بن خطاب سے منقول ہے کہ آپ لوگوں کو امامت کرواتے تو تکبیر بلندآواز سے کہتے۔