(۲۲۸۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الأَدِیبُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ أَخْبَرَنِی الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ یَعْنِی ابْنَ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ قَالَ سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ عَامِرٍ الأَنْصَارِیَّ یُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ: إِنْ کَانَ الْمُؤَذِّنُ إِذَا أَذَّنَ قَامَ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَیَبْتَدِرُونَ السَّوَارِیَ ، یُصَلُّونَ حَتَّی یَخْرُجَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- وَہُمْ کَذَلِکَ یُصَلُّونَ الرَّکْعَتَیْنِ قَبْلَ الْمَغْرِبِ ، وَلَمْ یَکُنْ بَیْنَ الأَذَانِ وَالإِقَامَۃِ شَیْئٌ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ بَشَّارٍ۔
وَرَوَاہُ عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ عَنْ شُعْبَۃَ فَقَالَ: وَکَانَ بَیْنَ الأَذَانِ وَالإِقَامَۃِ قَرِیبٌ یَعْنِی بِہِ فِی صَلاَۃِ الْمَغْرِبِ۔
[صحیح۔ اخرجہ البخاری ۵۹۹]
(٢٢٨١) (ا) سیدنا انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ موذن جب اذان کہتا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ ستونوں کی طرف جلدی جلدی چلتے تاکہ ان کے پیچھے نماز پڑھیں حتیٰ کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لاتے۔ صحابہ کرام (رض) مغرب سے پہلے بھی دو رکعتیں ادا کرتے تھے اور اذان اور اقامت کے درمیان کچھ نہیں ہوتا تھا۔
(ب) عثمان بن عمر شعبہ سے روایت کرتے ہیں کہ مغرب کی نماز میں اذان اور اقامت کے درمیان تھوڑا سا وقت ہوتا تھا۔