(۲۲۸۵) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِیٍّ السَّدُوسِیُّ حَدَّثَنَا عَوْنُ بْنُ کَہْمَسٍ عَنْ أَبِیہِ کَہْمَسٍ قَالَ: قُمْنَا بِمِنًی إِلَی الصَّلاَۃِ وَالإِمَامُ لَمْ یَخْرُجْ ، فَقَعَدَ بَعْضُنْا فَقَالَ لِی شَیْخٌ مِنْ أَہْلِ الْکُوفَۃِ: مَا یُقْعِدُکَ؟ قُلْتُ: ابْنُ بُرَیْدَۃَ۔ قَالَ: ہَذَا السُّمُودُ۔ فَقَالَ لِی الشَّیْخُ حَدَّثَنِی بِہِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْسَجَۃَ عَنِ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: کُنَّا نَقُومُ فِی الصَّلاَۃِ صُفُوفًا عَلَی عَہْدِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- طَوِیلاً قَبْلَ أَنْ یُکَبِّرَ ، قَالَ وَقَالَ: ((إِنَّ اللَّہَ وَمَلاَئِکَتَہُ یُصَلُّونَ عَلَی الَّذِینَ یَلُونَ الصَّفَ الأَوَّلَ ، وَمَا مِنْ خُطْوَۃٍ أَحَبَّ إِلَی اللَّہِ جَلَّ ثَنَاؤُہُ مِنْ خُطْوَۃٍ یَمْشِیہَا یَصِلُ بِہَا صَفًّا))۔
وَالَّذِی رُوِیَ عَنِ ابْنِ بُرَیْدَۃَ فِی ہَذَا الْحَدِیثِ قَدْ رُوِیَ أَیْضًا عَنْ عَلِیِّ۔ رُوِیَ عَنْ أَبِی خَالِدٍ الْوَالِبِیِّ قَالَ: خَرَجَ إِلَیْنَا عَلِیُّ بْنُ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَنَحْنُ قِیَامٌ فَقَالَ: مَا لِی أَرَاکُمْ سَامِدِینَ یَعْنِی قِیَامًا۔
وَسُئِلَ إِبْرَاہِیمُ النَّخَعِیُّ أَیَنْتَظِرُونَ الإِمَامَ قِیَامًا أَوْ قُعُودًا قَالَ: لاَ بَلْ قُعُودًا۔ وَالأَشْبَہُ أَنَّہُمْ کَانُوا یَقُومُونَ إِلَی الصَّلاَۃِ قَبْلَ خُرُوجِ النَّبِیِّ -ﷺ- وَیَأْخُذُونَ مَقَامَہُمْ قَبْلَ أَنْ یَأْخُذَ ، ثُمَّ أَمَرَہُمْ بِأَنْ لاَ یَقُومُوا حَتَّی یَرَوْہُ قَدْ خَرَجَ تَخْفِیفًا عَلَیْہِمْ۔ [ضعیف۔ اخرجہ ابوداود ۵۴۳]
(٢٢٨٥) (ا) عون بن کہمس اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ہم منیٰ میں نماز کے لیے کھڑے تھے، لیکن امام ابھی تک نہیں آیا تھا۔ چنانچہ ہم میں سے بعض بیٹھ گئے۔ اہل کوفہ کے ایک شیخ نے مجھے کہا : تجھے کس نے بٹھایا ہے ؟ میں نے کہا : ابن بریدہ نے۔ شیخ نے مجھے کہا : مجھے اس کے بارے عبدالرحمن بن عوسجۃ نے براء بن عازب سے روایت بیان کی ہے کہ انھوں نے فرمایا : ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دور میں نماز کے لیے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے تکبیر کہنے سے پہلے لمبی صف بنا کر کھڑے ہوجاتے تھے۔
براء بن عازب فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بیشک اللہ تعالیٰ ان پر رحمت نازل کرتا ہے اور اس کے فرشتے ان لوگوں کے لیے دعائیں کرتے ہیں جو پہلی صف کو ملاتے ہیں اور اللہ جل شانہٗ کے نزدیک ان قدموں سے بہترین کوئی قدم نہیں جن کے ساتھ وہ چل کر آتا ہے اور صف کو ملاتا ہے۔
(ب) حضرت علی (رض) سے بھی اسی طرح منقول ہے۔ ابو خالد والبی سے منقول ہے کہ ایک دن علی بن ابی طالب ہمیں نماز پڑھانے نکلے تو ہم کھڑے تھے۔ آپ (رض) نے فرمایا : کیا ہوگیا ہے کہ میں تمہیں مبہوت حالت میں کھڑے دیکھ رہا ہوں۔
(ج) حضرت ابراہیم نخعی سے پوچھا گیا کہ امام کا انتظار کھڑے ہو کر کریں یا بیٹھ کر ؟ تو انھوں نے فرمایا : بیٹھ کر انتظار کریں۔
اصل بات یہ ہے کہ صحابہ کرام (رض) ، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے نکلنے سے پہلے کھڑے نہیں ہوتے تھے بلکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اپنی جگہ پر کھڑے ہونے سے پہلے اپنی اپنی جگہ پر کھڑے ہوجاتے تھے۔ لیکن آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں حکم دیا کہ اس وقت تک کھڑے نہ ہوا کریں جب تک مجھے نہ دیکھ لیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان پر تخفیف کرتے ہوئے یہ حکم دیا تھا۔