(۲۳۳۳) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نَصِیرٍ الْخُلْدِیُّ إِمْلاَئً أَخْبَرَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلاَمِ بْنُ أَبِی حَازِمٍ حَدَّثَنَا غَزْوَانُ بْنُ جَرِیرٍ عَنْ أَبِیہِ: أَنَّہُ کَانَ شَدِیدُ اللُّزُومِ لِعَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ: کَانَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ إِذَا قَامَ إِلَی الصَّلاَۃِ فَکَبَّرَ ضَرَبَ بِیَدِہِ الْیُمْنَی عَلَی رُسْغِہِ الأَیْسَرِ ، فَلاَ یَزَالُ کَذَلِکَ حَتَّی یَرْکَعَ إِلاَّ أَنْ یَحُکَّ جِلْدًا أَوْ یُصْلِحَ ثَوْبَہُ ، فَإِذَا سَلَّمَ سَلَّمَ عَنْ یَمِینِہِ: سَلاَمٌ عَلَیْکُمْ ، ثُمَّ یَلْتَفِتُ عَنْ شِمَالِہِ فَیُحَرِّکُ شَفَتَیْہِ ، فَلاَ نَدْرِی مَا یَقُولُ ثُمَّ یَقُولُ: لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ وَحْدَہُ لاَ شَرِیکَ لَہُ ، لاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّۃَ إِلاَّ بِاللَّہِ ، لاَ نَعْبُدُ إِلاَّ إِیَّاہُ۔ ثُمَّ یُقْبِلُ عَلَی الْقَوْمِ بِوَجْہِہِ ، فَلاَ یُبَالِی عَنْ یَمِینِہِ انْصَرَفَ أَوْ عَنْ شِمَالِہِ۔
ہَذَا إِسْنَادٌ حَسَنٌ۔ [ضعیف۔ اخرجہ ابو حسن بن بشران]
(٢٣٣٣) غزوان بن جریر اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ سیدنا علی (رض) کے ساتھ زیادہ تر وقت گزارتے تھے۔ وہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی (رض) جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو تکبیر کہتے اور دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ کی کلائی پر باندھ لیتے، پھر اسی حالت میں رہتے ، یہاں تک کہ رکوع کرتے (پھر رکوع کرنے تک اسی حالت میں رہتے) صرف حاجت کے وقت اپنے جسم کو کھجلاتے یا اپنے کپڑے درست کرتے۔ جب سلام پھیرتے تو اپنی داہنی جانب سلام پھیرتے ہوئے سلامٌ علیکم پھر بائیں جانب سلام پھیرتے پھر اپنے ہونٹوں کو حرکت دیتے۔ ہمیں نہیں معلوم کہ کیا پڑھتے تھے ، پھر کہتے ( (لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ، لاحول ولا قوۃ الا باللّٰہ لا نعبد الا ایاہ۔ ) ) ” اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں نیکی کرنے کی طاقت اور برائی سے بچنے کی قوت اسی کی طرف سے ہے، ہم اس کے سوا کسی کی عبادت نہیں کرتے۔ پھر اپنے چہرے کو لوگوں کی طرف پھیر لیتے۔
وہ اس چیز کا خیال نہیں کرتے تھے کہ دائیں طرف سے پھریں یا بائیں طرف سے (یعنی کبھی دائیں طرف سے پھرتے اور کبھی بائیں طرف سے)