(۲۳۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَمْرٍو الْبَزَّازُ بِبَغْدَادَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَرَجِ حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ۔
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ قَالَ وَحَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِیہُ وَاللَّفْظُ لَہُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ قَالَ حَدَّثَنِی إِسْمَاعِیلُ بْنُ کَثِیرٍ عَنْ عَاصِمِ بْنِ لَقِیطِ بْنِ صَبِرَۃَ عَنْ أَبِیہِ: أَنَّہُ أَتَی عَائِشَۃَ ہُوَ وَصَاحِبٌ لَہُ یَطْلُبَانِ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ-فَلَمْ یَجِدَاہُ ، فَأَطْعَمَتْہُمَا عَائِشَۃُ تَمْرًا وَعَصِیدًا ، فَلَمْ یَلْبَثَا أَنْ جَائَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ-یَتَقَلَّعُ یَتَکَفَّأُ فَقَالَ: ((ہَلْ أَطْعَمَکُمَا أَحَدٌ؟)) فَقُلْتُ:نَعَمْ یَا رَسُولَ اللَّہِ ، ثُمَّ قُلْتُ: یَا رَسُولَ اللَّہِ أَخْبِرْنَا عَنِ الصَّلاَۃِ فَقَالَ: ((أَسْبِغِ الْوُضُوئَ وَخَلِّلِ الأَصَابِعَ ، وَإِذَا اسْتَنْشَقْتَ فَبَالِغْ إِلاَّ أَنْ تَکُونَ صَائِمًا))۔ [صحیح۔ أخرجہ ابو داؤد ۱۴۳]
(٢٣٦) سیدنا عاصم بن لقیط بن صبرہ (رض) اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ اور ان کا ساتھی سیدہ عائشہ (رض) کے پاس آئے، وہ دونوں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تلاش کر رہے تھے لیکن انھوں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نہ پایا تو سیدہ عائشہ (رض) نے ان کو کھجوریں اور آٹے کا حلوہ کھلایا۔ وہ زیادہ دیر نہیں ٹھہرے تھے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) باوقار انداز میں سے چلتے ہوئے تشریف لائے اور فرمایا : کیا تم دونوں کو کسی نے کوئی چیز کھلائی ہے ؟ میں نے کہا : ہاں اے اللہ کے رسول ! پھر میں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! ہمیں نماز کے بارے میں بتائیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” مکمل وضو کرو اور انگلیوں کا خلال کرو اور جب ناک میں پانی چڑھاؤ تو مبالغہ کرو مگر روزے کی حالت میں نہ کرو۔ “