hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 2354

.

سنن البيهقي

2354
Sunan Al Bayhaqi
(۲۳۵۴) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ أَخْبَرَنَا أَبُو مُسْلِمٍ: إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِیدِ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ فَذَکَرَہُ بِمَعْنَاہُ إِلاَّ أَنَّہُ قَالَ: ((اللَّہُمَّ إِنِّی أَعُوذُ بِکَ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیمِ))۔ وَزَادَ قَالَ عَمْرٌو: نَفْخُہُ الْکِبْرُ ، وَہَمْزُہُ الْمُوتَۃُ ، وَنَفْثُہُ الشِّعْرُ۔ وَرَوَاہُ یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ عَنْ مِسْعَرٍ وَشُعْبَۃَ عَنْ عَمْرٍو عَنْ رَجُلٍ مِنْ عَنَزَۃَ یُقَالُ لَہُ عَاصِمٌ عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَیْرِ بْنِ مُطْعِمٍ عَنْ أَبِیہِ عَنِ النَّبِیَّ -ﷺ- بِمَعْنَی حَدِیثِ أَبِی دَاوُدَ ، وَزَادَ التَّفْسِیرَ إِلاَّ أَنَّہُ لَمْ یَنْسُبْہُ إِلَی عَمْرٍو، وَلَکِنْ قَالَ قِیلَ: وَمَا ہَمْزُہُ؟ قَالَ: الْمُوتَۃُ الَّتِی تَأْخُذُ ابْنَ آدَمَ۔ قِیلَ: وَمَا نَفْخُہُ ؟ قَالَ: الْکِبْرُ۔ قِیلَ: وَمَا نَفْثُہُ؟ قَالَ الشِّعْرُ۔ أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ وَشُعْبَۃُ فَذَکَرَہُ۔ [ضعیف۔ وقد تقدم فی الذی قبلہ]
(٢٣٥٤) (ا) ایک دوسری سند میں ابو ولید شعبہ سے اسی جیسی حدیث روایت کرتے ہیں۔ اس میں یہ ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہم انی اعوذبک من الشیطن الرجیم۔ اے اللہ ! میں تیری پناہ میں آتا ہوں شیطان مردود سے۔ “
(ب) انھوں نے یہ اضافہ کیا ہے کہ عمرو کہتے ہیں : نفخہ سے مراد تکبر ہے اور ھمزہ سے مراد دیوانگی اور نفثہ سے مراد شعر گوئی ہے۔
(ج) ایک دوسری سند سے ابوداؤد کی حدیث بھی اسی طرح ہے۔ اس میں حدیث کے ساتھ کچھ تشریح کا اضافہ بھی ہے مگر انھوں نے اس کو عمرو کی طرف منسوب نہیں کیا، بلکہ کہا کہ ان سے کسی نے پوچھا : ہمزہ سے کیا مراد ہے ؟ تو انھوں نے فرمایا : وہ غشی اور دیوانگی جو ابن آدم پر طاری ہوجاتی ہے۔ کسی نے پوچھا : نفخہ کیا ہوتا ہے ؟ انھوں نے فرمایا : تکبر۔ پھر کسی نے پوچھا : نَفْثُہُ سے مراد کیا ہے ؟ انھوں نے بتایا : شعر و شاعری۔