(ق) وَبِہِ قَالَ الْحَسَنُ وَعَطَائٌ آخِرَ قَوْلَیْہِ وَالزُّہْرِیُّ وَقَتَادَۃُ وَرَبِیعَۃُ وَیَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ الأَنْصَارِیُّ۔
(۲۴۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ مَعِینٍ حَدَّثَنَا وَکِیعٌ عَنْ زَکَرِیَّا بْنِ أَبِی زَائِدَۃَ عَنْ مُصْعَبِ بْنِ شَیْبَۃَ عَنْ طَلْقِ بْنِ حَبِیبٍ عَنِ ابْنِ الزُّبَیْرِ عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ-: ((عَشْرٌ مِنَ الْفِطْرَۃِ: قَصُّ الشَّارِبِ وَإِعْفَائُ اللِّحْیَۃِ ، وَالسِّوَاکُ وَالاِسْتِنْشَاقُ بِالْمَائِ، وَقَصُّ الأَظْفَارِ وَغَسْلُ الْبَرَاجِمِ ، وَنَتْفُ الإِبْطِ وَحَلْقُ الْعَانَۃِ ، وَانْتِقَاصُ الْمَائِ ۔یَعْنِی الاِسْتِنْجَائَ بِالْمَائِ))۔ قَالَ زَکَرِیَّا قَالَ مُصْعَبٌ: وَنَسِیتُ الْعَاشِرَۃَ إِلاَّ أَنْ تَکُونَ الْمَضْمَضَۃَ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ قُتَیْبَۃَ عَنْ وَکِیعٍ وَذَکَرَ فِیہِ یَعْنِی الاِسْتِنْجَائَ بِالْمَائِ ۔ [حسن لغیرہٖ]
(٢٤١) (الف) سیدہ عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” دس چیزیں فطرت میں سے ہیں : مونچھیں کاٹنا، داڑھی بڑھانا، مسواک کرنا، ناک میں پانی چڑھانا، ناخن کاٹنا، پوروں کو دھونا، بغل کے بال اکھیڑنا، زیر ناف بال مونڈنا اور پانی سے استنجا کرنا۔ زکریا راوی کہتے ہیں کہ مصعب نے کہا : میں دسویں چیزیں بھول گیا ہوں شاید وہ کلی کرنا ہے۔
(ب) صحیح مسلم کی روایت کے الفاظ یہ ہیں : پانی کے ساتھ استنجا کرنا۔