(۲۴۷۴) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ: الْحُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو یَعْلَی حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ النَّاقِدُ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَیْجٍ عَنْ عَطَائٍ قَالَ قَالَ أَبُو ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ: إِذَا کُنْتَ إِمَامًا فَخَفَّفْ ، فَإِنَّ فِی النَّاسِ الْکَبِیرَ وَالضَّعِیفَ وَذَا الْحَاجَۃِ ، وَإِذَا صَلَّیْتَ وَحْدَکَ فَطَوِّلْ مَا بَدَا لَکَ ، وَفِی کُلِّ صَلاَۃٍ اقْرَأْ ، فَمَا أَسْمَعَنَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- أَسْمَعْنَاکُمْ ، وَمَا أَخْفَی عَنَّا أَخْفَیْنَا عَنْکُمْ۔ فَقَالَ لَہُ رَجُلٌ: أَرَأَیْتَ إِنْ لَمْ أَزِدْ عَلَی أُمِّ الْقُرْآنِ؟ قَالَ: إِنْ زِدْتَ عَلَیْہَا فَہُوَ خَیْرٌ ، وَإِنِ انْتَہَیْتَ إِلَیْہَا أَجْزَأَ عَنْکَ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَمْرٍو النَّاقِدِ دُونَ مَا فِی أَوَّلِہِ مِنَ الأَمْرِ بِالتَّخْفِیفِ ، وَأَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ کَمَا مَضَی۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری ۷۷۲]
(٢٤٧٤) حضرت عطا سے روایت ہے کہ ابوہریرہ (رض) نے فرمایا : جب تو امام ہو تو ہلکی نماز پڑھا۔ کیونکہ لوگوں میں بوڑھے بھی ہوتے ہیں کمزور اور حاجت مند بھی ہوتے ہیں اور جب تو اکیلا نماز پڑھ رہا ہو تو جتنی لمبی کرسکتا ہے کرلیا کر۔ ہر رکعت میں قراءت کر۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جو ہمیں سنایا وہ ہم نے تمہیں سنا دیا اور جو ہم سے پوشیدہ رکھا وہ ہم نے بھی آپ سے پوشیدہ رکھی۔ ایک شخص نے ان سے پوچھا : اگر میں سورة فاتحہ سے زیادہ کچھ نہ پڑھوں تو کیا درست ہے ؟ انھوں نے جواب دیا : اگر تو اس سے زیادہ پڑھ لے تو بہتر ہے اور اگر اسی پر اکتفا کرے تو بھی تیری نماز ہوجائے گی۔