(۲۴۷۶) أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ قَالَ حَدَّثَنِی یَزِیدُ الْفَقِیرُ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّہِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا یَقُولُ: یُقْرَأُ فِی الرَّکْعَتَیْنِ یَعْنِی الأُولَیَیْنِ بِفَاتِحَۃِ الْکِتَابِ وَسُورَۃٍ ، وَفِی الأُخْرَیَیْنِ بِفَاتِحَۃِ الْکِتَابِ۔ قَالَ: وَکُنَّا نَتَحَدَّثُ أَنَّہُ لاَ صَلاَۃَ إِلاَّ بِفَاتِحَۃِ الْکِتَابِ فَمَا فَوْقَ ذَاکَ ، أَوْ قَالَ مَا أَکْثَرَ مِنْ ذَاکَ۔
وَرُوِّینَا مَا دَلَّ عَلَی ہَذَا عَنْ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبِ وَعَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَسْعُودٍ وَعَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمْ۔
[صحیح۔ اخرجہ ابن ابی شیبہ ۳۶۳۳]
(٢٤٧٦) (ا) یزید فرماتے ہیں کہ میں نے جابر بن عبداللہ (رض) کو فرماتے ہوئے سنا کہ پہلی دو رکعتوں میں سورة فاتحہ کی قراءت بھی کی جائے اور کوئی دوسری سورت بھی اور بعد والی دو رکعتوں میں صرف سورة فاتحہ کی قراءت کی جائے گی۔ سورة فاتحہ کے بغیر نماز نہیں ہوتی البتہ مزید بھی پڑھ سکتے ہیں۔