(۲۴۷۹) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا: یَحْیَی بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی وَأَبُو سَعِیدِ بْنِ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا مَالِکٌ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْعَدْلُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ أَبِی عُبَیْدٍ مَوْلَی سُلَیْمَانَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِکِ أَنَّ عُبَادَۃَ بْنَ نُسَیٍّ أَخْبَرَہُ أَنَّہُ سَمِعَ قَیْسَ بْنَ الْحَارِثِ یَقُولُ أَخْبَرَنِی أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الصُّنَابِحِیُّ: أَنَّہُ قَدِمَ الْمَدِینَۃَ فِی خِلاَفَۃِ أَبِی بَکْرٍ الصِّدِّیقِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ ، فَصَلَّی وَرَائَ أَبِی بَکْرٍ الصِّدِّیقِ الْمَغْرِبَ ، فَقَرَأَ أَبُو بَکْرٍ فِی الرَّکْعَتَیْنِ الأُولَیَیْنِ بِأُمِّ الْقُرْآنِ وَسُورَۃٍ سُورَۃٍ مِنْ قِصَارِ الْمُفَصَّلِ ، ثُمَّ قَامَ فِی الرَّکْعَۃِ الثَّالِثَۃِ - قَالَ - فَدَنَوْتُ مِنْہُ حَتَّی إِنَّ ثِیَابِی لَتَکَادُ أَنْ تَمَسَّ ثِیَابَہُ ، فَسَمِعْتُہُ قَرَأَ بِأُمِّ الْقُرْآنِ وَہَذِہِ الآیَۃِ {رَبَّنَا لاَ تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ ہَدَیْتَنَا وَہَبْ لَنَا مِنْ لَدُنْکَ رَحْمَۃً إِنَّکَ أَنْتَ الْوَہَّابُ} زَادَ أَبُو سَعِیدٍ فِی رِوَایَتِہِ قَالَ الشَّافِعِیُّ وَقَالَ سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ: لَمَّا سَمِعَ عُمَرَ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ بِہَذَا عَنْ أَبِی بَکْرٍ الصِّدِّیقِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ: إِنْ کُنْتُ لَعَلَی غَیْرِ ہَذَا حَتَّی سَمِعْتُ بِہَذَا فَأَخَذْتُ بِہِ۔
[صحیح۔ اخرجہ مالک وعنہ الشافعی فی الام ۷/ ۲۰۷۔ ۲۲۸]
(٢٤٧٩) قیس بن حارث فرماتے ہیں کہ مجھے ابو عبداللہ صنابحی نے خبر دی کہ وہ ابوبکر صدیق (رض) کے دور خلافت میں مدینہ منورہ آئے۔ انھوں نے حضرت ابوبکر صدیق (رض) کے پیچھے مغرب کی نماز ادا کی۔ آپ (رض) نے پہلی دو رکعتوں میں سورة فاتحہ اور چھوٹی سورتوں میں سے ایک ایک سورة کی قرات کی، پھر تیسری رکعت کے لیے کھڑے ہوگئے۔ میں ان کے قریب ہوگیا حتیٰ کہ میرے کپڑے ان کے کپڑوں سے مس ہوا چاہتے تھے۔ میں نے سنا ، انھوں نے سورة فاتحہ پڑھی اور یہ آیت پڑھی۔ { رَبَّنَا لاَ تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ ہَدَیْتَنَا وَہَبْ لَنَا مِنْ لَدُنْکَ رَحْمَۃً إِنَّکَ أَنْتَ الْوَہَّابُ } [آل عمران : ٨] ” اے ہمارے رب ! ہمارے دلوں کو ٹیڑھا نہ کرنا اس کے بعد کہ تو نے ہمیں ہدایت بخشی ہے اور ہمیں اپنی خصوصی رحمت عطا فرما، بیشک تو بہت زیادہ عطا کرنے والا ہے۔ “
ابوسعید نے اپنی روایت میں اضافہ کیا ہے کہ امام شافعی (رح) نے فرمایا : سفیان بن عیینہ فرماتے ہیں کہ جب عمر بن عبدالعزیز نے یہ روایت سنی تو فرمایا : سننے سے پہلے اس پر میرا عمل نہ تھا، اب میں نے سن لیا ہے تو اس پر عمل کروں گا۔