(۲۴۸۳) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَیْدِ اللَّہِ حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ عَلِیٍّ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَۃَ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَاللَّفْظُ لَہُ أَخْبَرَنَا أَبُو النَّضْرِ: مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یُوسُفَ الْفَقِیہُ بِالطَّابِرَانِ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ الدَّارِمِیُّ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَاعِیلَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَۃَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ عُمَیْرٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَۃَ قَالَ: شَکَا أَہْلُ الْکُوفَۃِ سَعْدًا إِلَی عُمَرَ فَعَزَلَہُ ، وَاسْتَعْمَلَ عَلَیْہِمْ عَمَّارًا ، فَشَکَوْا حَتَّی ذَکَرُوا أَنَّہُ لاَ یُحْسِنُ یُصَلِّی ، فَأَرْسَلَ إِلَیْہِ فَقَالَ: یَا أَبَا إِسْحَاقَ إِنَّ ہَؤُلاَئِ یَزْعُمُونَ أَنَّکَ لاَ تُحْسِنُ تُصَلِّی۔ قَالَ: أَمَّا أَنَا وَاللَّہِ فَإِنِّی کُنْتُ أُصَلِّی بِہِمْ صَلاَۃَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- مَا أَخْرِمُ عَنْہَا أُصَلِّی صَلاَۃَ الْعِشَائِ ، فَأَرْکُدُ فِی الأُولَیَیْنِ ، وَأَحْذِفُ فِی الأُخْرَیَیْنِ ۔ قَالَ: ذَاکَ الظَّنُّ بِکَ یَا أَبَا إِسْحَاقَ۔
فَأَرْسَلَ مَعَہُ رَجُلاً أَوْ رِجَالاً إِلَی أَہْلِ الْکُوفَۃِ یَسْأَلُ عَنْہُ أَہْلَ الْکُوفَۃِ ، فَلَمْ یَدَعْ مَسْجِدًا إِلاَّ سَأَلَ عَنْہُ وَیُثْنُونَ مَعْرُوفًا حَتَّی دَخَلَ مَسْجِدًا لِبَنِی عَبْسٍ ، فَقَامَ رَجُلٌ مِنْہُمْ یُقَالُ لَہُ أُسَامَۃُ بْنُ قَتَادَۃَ یُکْنَی أَبَا سَعْدَۃَ قَالَ: أَمَّا إِذْ نَشَدْتَنَا ، فَإِنَّ سَعْدًا کَانَ لاَ یَسِیرُ بِالسَّرِیَّۃِ ، وَلاَ یَقْسِمُ بِالسَّوِیَّۃِ ، وَلاَ یَعْدِلُ فِی الْقَضِیَّۃِ۔
قَالَ سَعْدٌ: أَمَا وَاللَّہِ لأَدْعُوَنَّ اللَّہَ بِثَلاَثٍ: اللَّہُمَّ إِنْ کَانَ عَبْدُکَ ہَذَا کَاذِبًا ، قَامَ رِیَائً وَسُمْعَۃً ، فَأَطِلْ عُمْرَہُ وَأَطِلْ فَقْرَہُ وَعَرِّضْہُ بِالْفِتَنِ۔ وَکَانَ بَعْدُ إِذْ یُسْأَلُ یَقُولُ: شَیْخٌ کَبِیرٌ مَفْتُونٌ أَصَابَتْنِی دَعْوَۃُ سَعْدٍ۔ قَالَ عَبْدُ الْمَلِکِ: فَأَنَا رَأَیْتُہُ بَعْدُ قَدْ سَقَطَ حَاجِبَاہُ عَلَی عَیْنَیْہِ مِنَ الْکِبَرِ ، وَإِنَّہُ لَیَتَعَرَّضُ لِلْجَوَارِی فِی الطُّرُقِ یَغْمِزُہُنَّ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُوسَی بْنِ إِسْمَاعِیلَ۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری ۷۵۵]
(٢٤٨٣) حضرت جابر بن سمرہ (رض) سے روایت ہے کہ کوفہ والوں نے حضرت سعد بن ابی وقاص (رض) کی شکایت حضرت عمر (رض) سے کی۔ حضرت عمر (رض) نے انھیں معزول کردیا اور عمار (رض) کو کوفہ والوں کا حاکم بنایا۔ کوفہ والوں نے سعد (رض) کی کئی شکایتیں کیں، حتیٰ کہ یہ بھی کہہ دیا کہ وہ اچھی طرح نماز نہیں پڑھا سکتے۔ حضرت عمر (رض) نے سعد (رض) کو بلا بھیجا اور کہا : اے ابواسحق ! کوفہ کے لوگ کہتے ہیں : تم اچھی طرح نماز نہیں پڑھا سکتے۔ انھوں نے عرض کیا : میں اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں ان کو اسی طرح نماز پڑھاتا تھا جس طرح رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز پڑھایا کرتے تھے۔ میں نے اس میں ذرا کوتاہی نہیں کی۔ میں عشا کی نماز پڑھاتا ہوں تو پہلی دو رکعتوں کو لمبا اور بعد والی دو رکعتوں کو ہلکا کرتا ہوں۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : اے ابواسحق ! تم سے یہی گمان تھا۔
حضرت عمر (رض) نے ان کے ساتھ ایک یا چند آدمی روانہ کر کے کہا کہ کوفہ والوں سے سعد (رض) کی شکایات دریافت کریں۔ انھوں نے کوئی مسجد نہ چھوڑی جہاں سعد (رض) کے بارے نہ پوچھا ہو۔ سب نے ان کی تعریف ہی کی ۔ پھر بنی عبس کی مسجد میں گئے، وہاں ایک شخص کھڑا ہوا جس کو اسامہ بن قتادہ کہتے تھے اس کی کنیت ابوسعدہ تھی۔ اس نے کہا : جب تم ہمیں قسم دیتے ہو تو سچ یہ ہے کہ سعد (رض) کسی فوج کے ساتھ لڑائی کے لیے نہیں جاتے تھے اور مال غنیمت برابر تقسیم نہیں کرتے تھے اور جھگڑے میں انصاف کو ملحوظ خاطر نہیں رکھتے تھے۔
سعد (رض) نے یہ سن کر کہا : خدا کی قسم ! میں تیرے لیے تین بددعائیں کروں گا۔ ” اے اللہ ! اگر تیرا یہ بندہ جھوٹا ہے اور صرف لوگوں کو دکھانے اور سنانے کے لیے کھڑا ہوا ہے تو اس کی عمر لمبی کر اور مدت تک اس کو فقر سے دو چار رکھ اور فتنوں میں مبتلا رکھ۔ پھر اس شخص کا یہی حال ہوا، اس کے بعد جب اس سے کوئی حال پوچھتا تو کہتا : میں ایک بوڑھا ہوں، میرا یہ حال سعد (رض) کی بددعا کی وجہ سے ہوا ہے۔ عبدالملک کہتے ہیں : میں نے بھی اس کو دیکھا تھا، اتنا بوڑھا ہوگیا تھا کہ اس کی ابروئیں آنکھوں پر آگئیں تھیں اور وہ راستوں میں کھڑا ہو کر دو شیزاؤں کو آنکھیں مارتا تھا۔