(۲۵۲۷) وَحَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ إِمْلاَئً حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ: عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حَمْدَانَ الْجَلاَّبُ بِہَمَذَانَ حَدَّثَنَا أَبُو حَاتِمٍ: مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِیسَ الرَّازِیُّ حَدَّثَنَا وَہْبُ بْنُ أَبِی مَرْحُومٍ حَدَّثَنَا إِسْرَائِیلُ بْنُ حَاتِمٍ عَنْ مُقَاتِلِ بْنِ حَیَّانَ عَنِ الأَصْبَغِ بْنِ نُبَاتَۃَ عَنْ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ: قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ ہَذِہِ الآیَۃُ عَلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- {إِنَّا أَعْطَیْنَاکَ الْکَوْثَرَ فَصْلِّ لِرَبِّکَ وَانْحَرْ} قَالَ النَّبِیُّ -ﷺ- لِجِبْرِیلَ: ((مَا ہَذِہِ النَّحِیرَۃِ الَّتِی أَمَرَنِی بِہَا رَبِّی عَزَّ وَجَلَّ؟))۔ قَالَ: إِنَّہَا لَیْسَتْ بِنَحِیرَۃٍ ، وَلَکِنَّہُ یَأْمُرُکَ إِذَا تَحَرَّمْتَ لِلصَّلاَۃِ أَنْ تَرْفَعَ یَدَیْکَ إِذَا کَبَّرْتَ ، وَإِذَا رَکَعْتَ ، وَإِذَا رَفَعْتَ رَأْسَکَ مِنَ الرُّکُوعِ ، فَإِنَّہَا صَلاَتُنَا وَصَلاَۃُ الْمَلاَئِکَۃِ الَّذِینَ فِی السَّمَوَاتِ السَّبْعِ۔ قَالَ النَّبِیُّ -ﷺ- : ((رَفْعُ الأَیْدِی مِنَ الاِسْتِکَانَۃِ الَّتِی قَالَ اللَّہُ تَبَارَکَ وَتَعَالَی {فَمَا اسْتَکَانُوا لِرَبِّہِمْ وَمَا یَتَضَرَّعُونَ})) ۔
وَقَدْ رُوِیَ ہَذَا وَالاِعْتِمَادُ عَلَی مَا مَضَی وَبِاللَّہِ التَّوْفِیقِ۔
[ضعیف جدا۔ اخرجہ ابن حبان فی المجروحین ۱/۱۷۷/۱۱۲]
(٢٥٢٧) سیدنا علی بن ابی طالب (رض) سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر {إِنَّا أَعْطَیْنَاکَ الْکَوْثَرَ فَصْلِّ لِرَبِّکَ وَانْحَرْ } [الکوثر : ١۔ ٢] (یقینا ہم نے آپ کو کوثر عطا کیا۔ پس آپ اپنے رب کے لیے نماز پڑھیے اور قربانی دیجیے) نازل ہوئی تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جبرائیل (علیہ السلام) سے پوچھا : یہ کونسی قربانی ہے جس کے بارے میں میرے رب نے مجھے حکم دیا ہے ؟ تو جبرائیل (علیہ السلام) نے کہا : یہ وہ (جانور وغیرہ کی) قربانی نہیں ہے، بلکہ اس کے ذریعے اللہ نے آپ کو حکم دیا ہے کہ جب آپ نماز کے لیے تکبیر کہو تو اس وقت رفع یدین کرو اور جب رکوع کرو یا رکوع سے سر اٹھاؤ تب بھی رفع یدین کرو ۔ یہی ہماری نماز ہے اور ان فرشتوں کی بھی نماز ہے جو سات آسمانوں میں ہیں۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : رفع یدین کرنا اس جھک جانے سے ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ ارشاد ہے :{ فَمَا اسْتَکَانُوا لِرَبِّہِمْ وَمَا یَتَضَرَّعُونَ } [المومنون : ٧٦] ” پس نہ تو یہ لوگ اپنے پروردگار کے سامنے جھکے اور نہ ہی عاجزی اختیار کی۔
یہ روایت بھی نقل کردی گئی ہے، لیکن اعتماد اسی پر ہے جو گذر چکا۔