(۲۵۴۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَیُّوبَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِیدِ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَۃَ عَنْ حُصَیْنٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّۃَ عَنْ خَیْثَمَۃَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی سَبْرَۃَ الْجُعْفِیِّ قَالَ: قَدِمْتُ الْمَدِینَۃَ فَجَعَلْتُ أُطَبِّقُ کَمَا یُطَبِّقُ أَصْحَابُ عَبْدِ اللَّہِ وَأَرْکَعُ ، قَالَ فَقَالَ رَجُلٌ: یَا عَبْدَ اللَّہِ مَا یَحْمِلُکَ عَلَی ہَذَا؟ قُلْتُ: کَانَ عَبْدُ اللَّہِ یَفْعَلُہُ ، وَذَکَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- کَانَ یَفْعَلُہُ۔ قَالَ: صَدَقَ عَبْدُ اللَّہِ ، وَلَکِنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- رُبَّمَا صَنَعَ الأَمْرَ ، ثُمَّ أَحْدَثَ اللَّہُ لَہُ الأَمْرَ الآخَرَ ، فَانْظُرْ مَا اجْتَمَعَ عَلَیْہِ الْمُسْلِمُونَ فَاصْنَعْہُ۔ قَالَ: فَلَمَّا قَدِمَ کَانَ لاَ یُطَبِّقُ۔
قَالَ الشَّیْخُ: وَہَذَا الَّذِی صَارَ الأَمْرُ إِلَیْہِ مَوْجُودٌ فِی حَدِیثِ أَبِی حُمَیْدٍ السَّاعِدِیِّ وَغَیْرِہِ فِی صِفَۃِ رُکُوعِ النَّبِیِّ -ﷺ- وَفِی ذَلِکَ مَا دَلَّ عَلَی أَنَّ أَہْلَ الْمَدِینَۃِ أَعْرَفُ بِالنَّاسِخِ وَالْمَنْسُوخِ مِنْ أَہْلِ الْکُوفَۃِ ، وَبِاللَّہِ التَّوْفِیقُ۔ [صحیح]ٍ
(٢٥٤٨) (ا) خیثمہ بن عبدالرحمن فرماتے ہیں کہ میں مدینہ آیا۔ چونکہ میں بھی عبداللہ بن مسعود (رض) کے شاگردوں کی طرح رکوع میں ہاتھ رانوں کے درمیان رکھ لیتا تھا۔ ایک آدمی نے کہا : آپ کو اس کام پر کس نے ترغیب دی ؟ میں نے کہا : عبداللہ بن مسعود (رض) اس طرح لیا کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس طرح کرتے تھے۔
اس نے کہا : عبداللہ (رض) نے سچ فرمایا، لیکن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کچھ عرصہ اس طرح کیا، پھر اللہ تعالیٰ نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے نیا حکم جاری کیا۔ لہٰذا مسلمانوں کے اتفاقی مسئلے پر عمل کرو۔ راوی کہتے ہیں : جب وہ دوبارہ تشریف لائے تو تطبیق نہیں کرتے تھے۔
(ب) شیخ بیہقی فرماتے ہیں : اسی پر تمام لوگوں کا عمل ہے۔ ابو حمید ساعدی کی حدیث میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے رکوع کی کیفیت ہے۔ اس میں یہ بھی ہے کہ اہل مدینہ ناسخ اور منسوخ کے بارے میں اہل کوفہ سے زیادہ جان پہچان رکھتے ہیں۔ وباللہ التوفیق